نئی دہلی: ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران شام 5 بجے تک ووٹنگ کا تناسب 89.99 فیصد تک پہنچ گیا، جو غیر معمولی طور پر بلند ٹرن آؤٹ مانا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پورب بردھمان ضلع 92.46 فیصد ووٹنگ کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد ہگلی میں 90.34 فیصد، نادیہ میں 90.28 فیصد اور ہاوڑہ میں 89.44 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ اسی طرح نارتھ 24 پرگنہ اور ساؤتھ 24 پرگنہ میں بھی بالترتیب تقریباً 89 فیصد کے قریب ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو عوامی شرکت کی بلند سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
142 نشستوں پر سخت مقابلہ
دوسرے مرحلے میں ریاست کی 294 میں سے 142 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، جس میں 2.22 کروڑ سے زائد ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔ اہم نشستوں میں بھوانی پور اور ٹالی گنج شامل ہیں، جہاں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ یہ مرحلہ خاص طور پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ووٹنگ جنوبی بنگال اور کولکاتا جیسے اس کے مضبوط علاقوں میں ہوئی۔
سیاسی جماعتوں کے دعوے، نظریں نتائج پر
زیادہ ووٹنگ تناسب کو مختلف سیاسی جماعتیں اپنے حق میں تعبیر کر رہی ہیں۔ ٹی ایم سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں کم از کم 100 نشستیں جیتے گی، جبکہ بی جے پی نے 110 نشستوں پر کامیابی کا اعتماد ظاہر کیا ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے انہی 142 نشستوں میں سے 123 پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ اس بار بی جے پی شہری ووٹ بینک اور متوا برادری میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو ریکارڈ 91.78 فیصد ووٹنگ درج کی گئی تھی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد آج شام 6 بجے اوپینین پول جاری کیے جائیں گے۔
ٹی ایم سی بمقابلہ بی جے پی، سیاسی امتحان
مغربی بنگال میں اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے۔ دوسرے مرحلے کو خاص طور پر ٹی ایم سی کے لیے ایک بڑا امتحان مانا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹنگ جنوبی بنگال اور کولکاتا جیسے اس کے مضبوط گڑھ میں ہو رہی ہے۔ سال 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے انہی 142 نشستوں میں سے 123 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار بی جے پی شہری علاقوں اور متوا برادری میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ٹی ایم سی اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے میدان میں ہے۔ کچھ مقامات سے بدامنی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم سکیورٹی کے سخت انتظامات اور مرکزی فورسز کی تعیناتی کے باعث مجموعی صورتحال قابو میں رہی۔ واضح رہے کہ تمام ریاستوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جس کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…