نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ میں دو اہم قراردادیں منظور کی گئی ہیں ۔ ماہ اپریل میں منعقدہ مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی سنگین ہوتی صورت حال ، ہندوستان کے موجودہ داخلی حالات کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
عالمی صورت حال سے متعلق قرارداد
عالمی صورت حال سے متعلق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے سنگین حالات پر جماعت اسلامی ہند اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران و لبنان پر کئے گئے حملے بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ اجلاس ان وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ حملوں کے دوران جس طرح شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور عام شہریوں، اسکولوں، اسپتالوں اور معصوم بچوں پر بمباری کی گئی ، وہ عالمی ضمیر کے لیے ایک نہایت سنگین سوالیہ نشان ہے۔ مجلس شوریٰ کی رائے میں ان کارروائیوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو مستقل خوف و اضطراب میں مبتلا رکھنے اور اسرائیلی توسیع پسندی کے ایجنڈے کو تقویت دینے کی ایک منظم اور منصوبہ بند کوشش کی جا رہی ہے۔قرار داد میں کہا گیا کہ مجلس شوریٰ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اگرچہ فوری نتائج کے اعتبار سے یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے، تاہم مجلس شوریٰ اس امید کا اظہار کرتی ہے کہ بات چیت کا یہ آغاز تعطل کو توڑنے میں مددگار ثابت ہوگا اور عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار جنگ بندی معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ قرارداد میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ ہے فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے معاملے میں بھارت کا موقف ہمیشہ اصولی اور منصفانہ رہا ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسی دیرینہ اور اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرے اور خطے میں انصاف کی بحالی کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ بروئے کار لائے۔
ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش
ملک کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے دوسری قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اجلاس بھارت کی موجودہ داخلی صورت حال اور مختلف سیاسی، سماجی و معاشی مسائل کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مجلس شوریٰ اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ ملک میں سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے نفرت انگیز بیانیے اب ایک مستقل حربے کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ بالخصوص آسام اور مغربی بنگال کے انتخابات میں جس طرح اسے سیاسی بقا اور استحکام کا ذریعہ بنایا گیا، وہ ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے۔ مجلس شوریٰ کے نزدیک اقتدار کے حصول کے لیے سماج کو تقسیم کرنا نہ صرف ملک کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے بلکہ ملک اورعوام کے لیے دور رس مہلک نقصانات کا باعث بھی ہے۔
ایس آئی آر کے ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظرثانی میں بے ضابطگیاں
قرار داد میں اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک کے اہم دستوری اور سرکاری اداروں کو جو جمہوریت کے محافظ سمجھے جاتے تھے، مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اداروں کی یہ صورت حال عوامی اعتماد کو مسلسل مجروح کر رہی ہے۔ مجلس شوریٰ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ (SIR) کے تحت ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظرثانی میں بے ضابطگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لاکھوں شہریوں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کو جمہوری عمل سے خارج کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے، جس کے پیچھے ایک گہرا سیاسی ایجنڈا نظر آتا ہے۔
انصاف، سماجی مساوات، امن اور بھائی چارہ مضبوط کرنے پر زور
مرکزی مجلسِ شوریٰ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اب بھی ایسے انصاف پسند حلقے، جمہوری قوتیں، سماجی کارکنان، دانشور اور ذمہ دار شہری موجود ہیں جو حالات کو بہتر بنانے، آئین کے تحفظ اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومتِ ہند کو چاہیے کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور ملک کو درپیش حقیقی مسائل جیسے ایندھن کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر توجہ دے ۔ عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ باشعور بنیں اور برسرِ اقتدار افراد کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسے حقیقی مسائل پر جوابدہ بنائیں۔ مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ منفی ردِعمل اور جذباتی سیاست سے گریز کریں، اور قومی و سماجی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں، تعلیم اور صلاحیت سازی پر توجہ دیں، برادران وطن کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں اور ہم آہنگی کے ماحول کو فروغ دیں، تاکہ ملک میں انصاف، سماجی مساوات، امن اور بھائی چارہ مضبوط ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…