وزیراعظم نریندر مودی نے ہر دوئی سے آج 594 کلومیٹر طویل گنگا ایکسپریس وے کا افتتاح کیا۔ یہ بھارت کے سب سے بڑے گرین فیلڈ ایکسپریس وے منصوبوں میں سے ایک ہے، جسے 3.5 سال سے کم وقت میں مکمل کیا گیا۔ یہ منصوبہ بھارت کے لاجسٹکس اخراجات کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تیز تر ٹرانزٹ، کم ٹرن اراؤنڈ ٹائم اور زیادہ مسابقتی سپلائی چین کے ذریعے یہ ایکسپریس وے فریٹ ایفیشنسی بڑھانے میں مدد کرے گا۔
6 لین کا ایکسیس کنٹرولڈ کوریڈور
یہ 6 لین پر مشتمل ایکسیس کنٹرولڈ کوریڈور ہے، جسے مستقبل میں 8 لین تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ اسے پی ایم گتی شکتی، نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن اور بھارت مالا پروگرام کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہ کوریڈور مغربی اتر پردیش کے میرٹھ کو مشرقی اتر پردیش کے پریاگ راج سے جوڑتا ہے اور مشرقی یوپی کی معاشی صلاحیت کو کھولنے اور بھارت کی لاجسٹکس ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔
3 لاکھ افراد کو روزگار
اتر پردیش حکومت کے مطابق یہ ایکسپریس وے ہر سال 25,000 سے 30,000 کروڑ روپے کی لاجسٹکس بچت پیدا کرے گا، اگلے دس سال میں تقریباً 3 لاکھ روزگار پیدا کرے گا اور ریاست کی جی ڈی پی میں 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا حصہ ڈالے گا۔ یہ مختلف شعبوں میں انوینٹری رکھنے کی لاگت کم کرنے اور مجموعی سپلائی چین کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد دے گا۔
اڈانی گروپ کا کردار
اڈانی روڈ ٹرانسپورٹ لمیٹڈ، جو اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نے اس پروجیکٹ کے 464 کلومیٹر، یعنی مجموعی لائن کا تقریباً 80 فیصد حصہ مکمل کیا۔ باقی 130 کلومیٹر حصہ آئی آر بی انفراسٹرکچر نے تیار کیا۔یہ منصوبہ گاڑیوں کی اوسط رفتار بہتر بنانے اور فریٹ آپریٹرز کے لیے ٹرن اراؤنڈ ٹائم کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے ٹرانزٹ لاگت کم ہوگی، سپلائی چین کی قابل اعتمادیت بڑھے گی اور فریٹ رفتار میں اضافہ ہوگا۔
اے آئی کیمرہ سسٹم
سڑک کی حفاظت کو جدید ٹیکنالوجی سے مضبوط بنانے کے لیے گنگا ایکسپریس وے پر اے آئی پر مبنی کیمرہ سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ شاہجہاں پور ضلع میں 3.5 کلومیٹر طویل ایمرجنسی لینڈنگ سہولت بھی تیار کی گئی ہے تاکہ بھارتی فضائیہ کے طیارے ہنگامی حالت میں لینڈ کر سکیں، جس سے اس کوریڈور کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔یہ منصوبہ اتر پردیش ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (UPEIDA) نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت تیار کیا ہے۔ یہ بھارت کے بڑے گرین فیلڈ ایکسپریس وے منصوبوں میں شامل ہے، جس میں نجی سرمایہ کاروں نے ٹریفک اور ریونیو کا خطرہ خود اٹھایا ہے۔
اسٹریٹجک طور پر یہ کوریڈور صنعتی زونز، دفاعی صنعت، زرعی علاقے اور لاجسٹکس ہبز کو جوڑتے ہوئے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک کے ساتھ ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرتا ہے۔ تقریباً 8 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا یہ کوریڈور اتر پردیش میں رابطے کو نئی رفتار دے گا اور لاجسٹکس صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…