جسٹس ورما کی الہ آباد منتقلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا، (تصوری: پی ٹی ٹی)
سپریم کورٹ کالجیم نے پیر کے روز گھر سے نقدی ملنے کے معاملے میں پھنسے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کو الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی قیادت میں پانچ رکنی سپریم کورٹ کالجیم نے پیر کو دوسری بار اس معاملے پر غور کرنے کے بعد لیا۔ کالجیم کے دیگر چار ارکان میں جسٹس بی آر گوائی، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی کالجیم کی قرارداد میں کہا گیا ہے ’’ایس سی کالجیم نے 20 اور 24 مارچ کو ہونے والی اپنی میٹنگوں میں دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس ورما کو الہ آباد کے ہائی کورٹ آف جوڈیکیچر میں واپس بھیجنے کی سفارش کی ہے۔‘‘ اس سے قبل سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان کے تبادلے کی تجویز کے بارے میں ’’غلط معلومات اور افواہوں‘‘ سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی بھی تعلق جسٹس ورمان کے گھر نقدی ملنے کے معاملے سے نہیں ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کی فیصلے کی مخالفت
توقع کی جا رہی ہےکہ مرکزی حکومت جلد ہی جسٹس ورما کے تبادلے کی اطلاع دیتے ہوئے ایک باضابطہ حکم جاری کر دے گی۔ تاہم الہ آباد میں وکلا نے جسٹس ورما کے خلاف محاذ چھیڑ رکھا ہے اور انھیں ان کے پیرنٹ ہائی کورٹ یعنی الہ آباد بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے غیرمتعینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انل تیواری نے کہا ہے کہ ’’ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جسٹس ورما کی الہ آباد ہائی کورٹ یا اس کی لکھنؤ بنچ یا کسی اور ہائی کورٹ میں کسی بھی مجوزہ تبادلے کی مخالفت کرتی ہے‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کو حکومت سے فوری طور پر یہ سفارش کرنی چاہیے کہ وہ جسٹس ورمان کی برطرفی کی کارروائی شروع کرے۔ تیوانی نے جسٹس ورما کے ذریعے دیے گئے فیصلوں کی جانچ پڑتال کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اب تک کی کارروائیاں
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس ورما کو فوری اثر کے ساتھ ان کے عدالتی فرائض سے فارغ کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا تھا کہ ’’حالیہ واقعات کے پیش نظر اگلے احکامات تک جسٹس ورما سے تمام عدالتی کام فوری اثر کے ساتھ واپس لے لیے گئے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ جسٹس ورما کی رہائش گاہ سے بے حساب نقدی کی دریافت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو، ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی ایس سندھاوالیا اور کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس انو شیورامن پر مشتمل تین ججوں کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اگر ان تین ججوں کی کمیٹی جسٹس ورما پر فرد جرم عائد کرتی ہے تو سی جے آئی انھیں مستعفی ہونے یا رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ اگر جسٹس ورما ان کے مشورے پر عمل نہیں کرتے تو پھر سی جے آئی صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کریں گے اور جسٹس ورما کی برطرفی کے لیے کارروائی شروع کرنے کی سفارش کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…