قومی

Supreme Court On Manipur Violence Case: منی پور تشدد کے متاثرین کو ملے گا انصاف؟ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو جاری کر دیں سخت ہدایات، دو ہفتوں میں رپورٹ طلب

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منی پور میں نسلی تشدد سے متعلق معاملات میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اندر تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ تشدد کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مَنی پور کے چیف جسٹس ان معاملات کی نگرانی کریں گے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کیس کی سماعت کے لیے مَنی پور ہائی کورٹ میں ایک خصوصی بنچ تشکیل دینے کی ہدایت دی جائے گی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرین کے اہل خانہ کو دائر کیے گئے تمام چارج شیٹس کی نقول فراہم کی جائیں تاکہ انہیں قانونی کارروائی کی مکمل معلومات حاصل رہیں۔

سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ وقت میں مَنی پور کی صورتحال بڑی حد تک پرامن ہے اور لوگ آزادانہ طور پر آمد و رفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ تنظیمیں جو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو رہی ہیں، وہ مبینہ طور پر لوگوں کو تشدد جاری رکھنے کے لیے اکسا رہی ہیں۔ تشار مہتا کے مطابق، معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور اس کی سماعت مقامی سطح پر ہونا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ سرحدی اور سماجی پہلو بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مَنی پور تشدد کے متاثرین کی بازآبادکاری اور بحالی کے لیے عدالت کے مقرر کردہ کمیٹی کی جانب سے اب تک متعدد رپورٹس پیش کی جا چکی ہیں۔ اس کمیٹی میں جموں و کشمیر کے سابق چیف جسٹس جسٹس مِتّل، بمبئی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالنی پی جوشی اور دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس آشا مینن شامل ہیں۔ کمیٹی نے متاثرین کے لیے رہائش، معاوضہ اور دیگر امدادی اقدامات پر تفصیلی سفارشات دی ہیں۔ واضح رہے کہ 3 مئی 2023 کو مَنی پور میں نسلی تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس کے بعد سے اب تک 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، سیکڑوں زخمی ہوئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ یہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب پہاڑی اضلاع میں اکثریتی میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے مطالبے کے خلاف ’آدیواسی یکجہتی مارچ‘ نکالا گیا۔

سماعت کے دوران سینئر وکیل ورندا گروور نے، جو ایک حال ہی میں انتقال کر جانے والی خاتون متاثرہ کی جانب سے پیش ہوئیں، سی بی آئی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی والدہ کو کیس میں شامل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن سی بی آئی نے انہیں یہ تک اطلاع نہیں دی کہ اجتماعی زیادتی کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ ورندا گروور نے مزید کہا کہ متاثرہ ککی خاتون کی گزشتہ ماہ بیماری کے باعث موت ہو گئی، جس کا تعلق مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد پیدا ہونے والے شدید صدمے سے تھا۔ انہوں نے نچلی عدالت کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزمان پیش نہیں ہو رہے اور سی بی آئی کی غیر حاضری بھی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کی لاپروائی انصاف کے عمل کو کمزور کرتی ہے، جس پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

7 minutes ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

14 minutes ago

Manisha Bhanwala Makes History: منیشا بھنوالا نے رقم کی تاریخ، عالمی کشتی چیمپئن شپ میں ہندوستان کو دلایا پہلا طلائی تمغہ

ہندوستانی خاتون پہلوان منیشا بھنوالا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے قزاقستان کے آستانہ میں جمعہ…

1 hour ago