نئی دہلی — سپریم کورٹ نے بلڈروں اور بینک اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ پر سی بی آئی کی اب تک کی جانچ کو آنکھیں کھول دینے والی قرار دیتے ہوئے 22 مقدمات درج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو چھ ہفتوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ تحقیقات مکمل کر سکے اور مزید کارروائی کرے۔
عدالت کا مشاہدہ
جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے سی بی آئی کی سیل بند رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی رپورٹ چونکانے والی ہے، عوام کے مفاد میں فوری کارروائی ضروری ہے۔
معاملہ کیا ہے؟
عدالت میں دائر عرضی کے مطابق کچھ رئیل اسٹیٹ کمپنیاں اور بینک افسران خریداروں کو آسان قرض دلانے کے لیے آپس میں ملی بھگت کرتے ہیں۔ منصوبے ادھورے رہتے ہیں، فلیٹ نہیں ملتے، لیکن قرض جاری رہتا ہے۔ خریدار قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، جبکہ بلڈر اور بینک افسران رقم ہڑپ لیتے ہیں۔
سی بی آئی کی اب تک کی کارروائی
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو مطلع کیا کہ اب تک 58 سے زائد جائیدادوں کی جانچ کی گئی ہے۔ 1000 سے زیادہ گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ سی بی آئی نے عدالت کے سامنے تفصیلی سیل بند رپورٹ پیش کی۔
آئندہ اقدامات
سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو کہا کہ وہ 22 مقدمات درج کرے اور تفتیش کو تیز رفتار سے مکمل کرے۔ اگر کسی مرحلے پر رکاوٹ آئے تو سی بی آئی براہ راست عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ سی بی آئی کو دہلی-این سی آر کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی تفتیش کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ فیصلہ رئیل اسٹیٹ فراڈ کے خلاف سخت پیغام ہے اور ممکنہ طور پر بلڈروں اور بینکنگ نظام کی ملی بھگت کو بے نقاب کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہو گا۔ خریداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے عدالت کا یہ اقدام نہایت قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…