جگدیپ دھنکھڑ اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو۔ (فائل فوٹو)
جگدیپ دھنکھڑنے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے قبول کرلیا ہے۔ اس استعفیٰ نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس دوران ایک بڑا انکشاف ہوا ہے کہ جگدیپ دھنکھڑ 21 جولائی کی رات 9 بجے پیشگی اطلاع کے بغیرراشٹرپتی بھون پہنچ گئے تھے، جس سے وہاں ہلچل مچ گئی۔ آپ کوبتا دیں کہ راشٹرپتی بھون میں تمام سرگرمیاں پروٹوکول کے مطابق چلائی جاتی ہیں، لیکن جگدیپ دھنکھڑکے اچانک آنے سے دفترمیں افراتفری کا ماحول بن گیا۔
صدرجمہوریہ کو فوراً دی گئی تھی جگدیپ دھنکھڑکے آنے کی جانکاری
ذرائع کے مطابق، صدرجمہوریہ کو جگدیپ دھنکھڑکے غیرمتوقع دورے کے بارے میں فوری طورپرمطلع کردیا گیا۔ اس کے بعد صدر دروپدی مرموکے ساتھ عجلت میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا، جس میں دھنکھڑنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ 9:25 بجے، نائب صدرکے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرباضابطہ طورپران کے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد، سیاسی گلیاروں میں ہرطرح کے سوالات اٹھنے لگے۔ اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد شروع ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے۔
امت شاہ اوراسپیکراوم برلا کے درمیان ہوئی ملاقات
جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے لوک سبھا اسپیکراوم برلا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں بتایا جا رہا ہے کہ جسٹس یشونت ورما کے خلاف مواخذے کی تحریک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آپ کوبتا دیں کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی کوشروع ہوا تھا اورآج اس کا تیسرا دن ہے۔ اجلاس کے پہلے دو دن ہنگامہ آرائی کا شکاررہے۔ 21 جولائی کوجسٹس ورما کے خلاف دونوں ایوانوں میں مواخذے کی تحریک پیش کی گئی، جس کے بعد جگدیپ دھنکھڑ نے استعفیٰ دے دیا۔ 22 جولائی کوان کا استعفیٰ منظورہونے کے بعد ایوان کی کارروائی آج تک کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔
راجیہ سبھا بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ آج
نائب صدرجمہوریہ کے استعفیٰ کے بعد آج پہلی بارراجیہ سبھا بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کی صدارت میں ہوگی۔ پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجواورراجیہ سبھا میں قائد ایوان جے پی نڈا نے 21 جولائی کوجگدیپ دھنکھڑکی صدارت میں ہونے والی بی اے سی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان تمام خبروں کے درمیان آج بھی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا جارحانہ موقف دیکھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم نریندرمودی سے بہارمیں ووٹرلسٹ پرنظرثانی، ایس آئی آر، پہلگام دہشت گردانہ حملہ اورآپریشن سندھ کے بارے میں جواب مانگ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…