قومی

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

سپریم کورٹ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے سربراہ ابو بکر کو دہلی کے میکس اسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم، عدالت نے اس کے ساتھ کئی سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے ابو بکر کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد یہ ہدایت جاری کی۔

عدالت نے کیا شرائط عائد کیں؟

سپریم کورٹ نے میکس اسپتال سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ابو بکر کو آئندہ کس طرح کے طبی علاج کی ضرورت ہے اور انہیں کتنے عرصے تک اسپتال میں داخل رہنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے معاملے کو فی الحال زیر التوا رکھا ہے، تاکہ طبی رپورٹ موصول ہونے کے بعد آگے کی صورت حال پر غور کیا جا سکے۔ ابو بکر کو اپنے علاج اور پولیس کی حفاظتی نگرانی کا پورا خرچ خود برداشت کرنا ہوگا۔ اسپتال میں داخل رہنے کے دوران ان کے ساتھ مسلح پولیس اہلکار تعینات رہیں گے اور ان کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

سماعت کے دوران کیا دلائل دیے گئے؟

سماعت کے دوران ابو بکر کے وکیل نے سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے ایک سابقہ حکم کا حوالہ دیا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ اسپتال میں داخل رہنے کی مدت کا فیصلہ وکلا کی درخواست کے بجائے ڈاکٹروں کے طبی جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

درخواست گزار کا موقف: ابو بکر کے وکلا نے دلیل دی کہ ان کی عمر 70 سال ہے، وہ کینسر میں مبتلا ہیں اور پارکنسنز جیسی سنگین بیماری سے بھی جوجھ رہے ہیں۔ حراست کے دوران انہیں کئی مرتبہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) لے جایا جا چکا ہے۔ وکلا نے اس سے پہلے ہائی کورٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون (یو اے پی اے) کے تحت قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے الزامات کی حمایت میں کوئی ٹھوس مواد موجود نہیں ہے۔

این آئی اے کی مخالفت: قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ضمانت کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ابو بکر کے خلاف ملک بھر میں غیر قانونی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو تربیت دینے کے کیمپ منعقد کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ایجنسی نے یہ دلیل بھی دی کہ ابو بکر کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں اور اگر انہیں رہا کیا گیا تو وہ گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

سال 2022 میں پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں پر ملک گیر پابندی عائد کیے جانے سے ٹھیک پہلے، 22 ستمبر 2022 کو این آئی اے نے ملک کی 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چھاپے مارے تھے۔ ان میں کیرالہ، مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو، آسام، اتر پردیش، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، پڈوچیری، دہلی اور راجستھان شامل تھے۔ اس کارروائی کے دوران پی ایف آئی کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں ابو بکر بھی شامل تھے۔ اس سے قبل فروری میں دہلی ہائی کورٹ نے ابو بکر کو گھر میں نظر بند رکھنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم تہاڑ جیل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی تھی کہ ان کی بیماریوں کا باقاعدگی سے اور مؤثر علاج یقینی بنایا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

1 hour ago

Census 2027 Centre Amends Rules: مردم شماری کے قواعد میں ترمیم، پرائیویٹ اسکولوں کے عملے پر کیا پڑے گا اثر؟

مرکزی حکومت نے مردم شماری کے قواعد 1990 میں ترمیم کرکے نجی اسکولوں کے اساتذہ…

2 hours ago