قومی

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے سے متعلق کیمپس میں جاری طلباء کے دھرنے اوربھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلباء کے اس مطالبے کو فوری طورپرتسلیم کرتے ہوئے یونین کے انتخابات کرانے کی کارروائی شروع کی جائے۔ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ موجودہ صورتحال یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ اگرانتظامیہ طلباء کے مطالبے پربروقت توجہ دیتی تو حالات اس مرحلے تک نہیں پہنچتے۔

انہوں نے کہا کہ طلباء کا اپنی نمائندہ یونین کی بحالی کا مطالبہ جائزہے اورانتظامیہ کواس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 1981 کے اسٹیٹیوٹ 34 میں واضح طورپردرج ہے کہ “یونیورسٹی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے نام سے ایک یونین ہوگی۔” اس کے باوجود گزشتہ آٹھ برس سے طلباء یونین کا وجود میں نہ آنا افسوس ناک ہے۔

یونین کی اپنی الگ تاریخی اور نمائندہ حیثیت

زیڈ کے فیضان نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی اپنی ایک الگ افادیت اور تاریخی حیثیت ہے۔ اس کا کرداردیگریونیورسٹیوں کی طلباء یونینوں سے مختلف رہا ہے۔ اے ایم یواسٹوڈنٹس یونین نے نہ صرف کیمپس کے طلباء کے مسائل کواٹھایا بلکہ قومی سطح پرملی اورسماجی مسائل کے حوالے سے بھی اپنی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی روایت اوراس کے تاریخی پس منظرکودیکھتے ہوئے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے معاملے کومحض ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جانا چاہیے۔

علیگ برادری سے مداخلت کی اپیل

زیڈ کے فیضان نے دنیا بھرمیں پھیلی ہوئی علیگ برادری، بالخصوص اولڈ بوائزایسوسی ایشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں دلچسپی لیں اوروائس چانسلرسے ملاقات کرکے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کریں۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ طلباء کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے بلا تاخیراسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگرمعاملے کومزید طول دیا گیا تو کیمپس کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جو یونیورسٹی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پرہے اوراسے طلباء کے مطالبے پر فوری اور مثبت فیصلہ کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

1 hour ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

2 hours ago

Parvesh Verma Slapping Case: تھپڑ معاملے میں وزیر پرویش ورما کے خلاف کارروائی، دہلی پولیس نے درج کی نان کاگنیزیبل رپورٹ

تلک نگر میں سڑک کے معائنے کے دوران نوجوان کو تھپڑ مارنے کا الزام، دہلی…

2 hours ago