قومی

Baramati Bypoll 2026: بارامتی ضمنی انتخاب کے لیے سنیترا پوار نے داخل کی نامزدگی، کانگریس کے میدان میں آنے سے مقابلہ ہوا دلچسپ

ریاست مہاراشٹر کی سیاست کے اہم ترین حلقے بارامتی میں ہونے والا ضمنی انتخاب اب ایک ہائی پروفائل سیاسی مقابلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سابق نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے ہوائی حادثے میں انتقال کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر ان کی اہلیہ سنیترا پوار نے نامزدگی داخل کر دی ہے۔ سنیترا پوار کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی جانب سے امیدوار بنایا گیا ہے اور پارٹی نے ان کی بلا مقابلہ جیت کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم اپوزیشن کی بڑی جماعت کانگریس کے میدان میں آنے کے بعد سیاسی منظرنامہ یکسر بدل گیا ہے۔

’بلا مقابلہ‘ حکمت عملی کو دھچکا

اجیت پوار کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر اور خاندانی سیاسی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے این سی پی نے دیگر جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سنیترا پوار کے خلاف امیدوار نہ کھڑا کریں تاکہ انہیں بلا مقابلہ منتخب کرایا جا سکے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے بھی اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی تھی، لیکن کانگریس نے اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، جس سے این سی پی کی حکمت عملی کو بڑا دھچکا لگا۔

کانگریس کی جانب سے آکاش مورے میدان میں

انڈین نیشنل کانگریس نے اس ضمنی انتخاب میں ایڈوکیٹ آکاش مورے کو اپنا باضابطہ امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی کارکردگی اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔  کانگریس کے اس فیصلے نے نہ صرف اس انتخاب کو دلچسپ بنا دیا ہے بلکہ اسے ’’ترقی بمقابلہ ہمدردی‘‘ کی سیاسی لڑائی میں بھی تبدیل کر دیا ہے۔

این سی پی کا ردعمل اور اعتماد کا اظہار

کانگریس کے اس اقدام پر این سی پی کے سینئر رہنما چھگن بھجبل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے جمہوری طریقے سے بلا مقابلہ انتخاب کی کوشش کی تھی، لیکن کانگریس نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب پارٹی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترے گی اور عوام کے سامنے اجیت پوار کی ترقیاتی خدمات کو اجاگر کرے گی۔ بھجبل نے دعویٰ کیا کہ بارامتی کی عوام سنیترا پوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائے گی۔

بارامتی میں سخت مقابلے کے آثار

بارامتی کو طویل عرصے سے پوار خاندان کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف سنیترا پوار کے پاس اپنے شوہر کی سیاسی وراثت اور حکمراں اتحاد کی حمایت ہے، تو دوسری جانب کانگریس مقامی مسائل اور ممکنہ حکومت مخالف رجحان کو بنیاد بنا کر میدان میں اتری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ مقابلہ اب صرف ایک خاندان یا شخصیت تک محدود نہیں رہا بلکہ نظریات، کارکردگی اور عوامی اعتماد کی جنگ بن چکا ہے۔ بارامتی کا یہ ضمنی انتخاب نہ صرف مہاراشٹر بلکہ قومی سیاست کے لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سنیترا پوار کی بلا مقابلہ جیت کی امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور اب یہ ایک مکمل انتخابی مقابلہ بن چکا ہے، جس میں دونوں بڑی جماعتیں اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں انتخابی مہم مزید تیز ہونے کی توقع ہے اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ہمدردی کی لہر غالب آتی ہے یا کانگریس اپنی حکمت عملی کے ذریعے کوئی بڑا سیاسی الٹ پھیر کر پاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

57 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

3 hours ago