قومی

Muslim Organizations not Satisfied with the Behavior of Arab Countries: غزہ میں قتل عام اوربھکمری کے خلاف مختلف ملی تنظیموں کا شدید ردعمل، اقوام متحدہ میں حکومت ہند کے اقدام کی ستائش، مرکزی حکومت سے کردیا یہ بڑا مطالبہ

نئی دہلی: ملک کی سرکردہ مسلم تنظیموں اور ممتازمذہبی رہنماؤں نے آج پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں غزہ کی موجودہ صورتحال سے متعلق ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ بیان میں غزہ میں جاری انسانی المیے پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کوروکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔ قائدین نے اپنے خطاب میں غزہ کی موجودہ صورتِ حال کوانسانی تاریخ کے بدترین ابواب میں سے ایک قراردیا اورخبردارکیا کہ وہاں قحط ایک ہولناک بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ اگرہم اس نازک لمحے میں خاموش رہیں تویہ تاریخ کا انتہائی سنگین اورنا قابل معافی جرم ہوگا۔ پریس کانفرنس کو جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی، مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان، شیعہ اسلامی اسکالرمولانا محسن تقوی، جمعیۃ علماء ہند (مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی) کے نمائندے وغیرہ موجود رہے۔

غزہ میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پراظہارتشویش

پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ “اسرائیلی بمباری اورمحاصرے کے باعث غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپرتباہ ہوچکا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسپتال یا تو مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔ کئی دیہات اورمحلّے مکمل طورپرصفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ غذائی قلت کے سبب معصوم شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ ایندھن کی قلت اورعدم دستیابی کے باعث نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز میں دم توڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹربغیرانستھیزیا کے سرجری کرنے پرمجبور ہیں۔ اس وقت غزہ میں انسانی زندگی کی تقریباً تمام بنیادی ضروریات ناپید ہوچکی ہیں اور یہ سب کسی دفاعی کارروائی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت اسرائیل کی جانب سے غزہ کے عوام کومکمل طورپرختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

 

اقوام متحدہ میں میں ہندوستان کے موقف کی ستائش

پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کے اس حالیہ بیان کی ستائش کی گئی، جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ رہنماؤں نے اسے ایک مثبت پیش رفت قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ موقف قابل تعریف ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا ملک صرف تشویش کا اظہارنہ کرے بلکہ آگے بڑھ کراس مسئلہ کے حل کے لیے موثر قائدانہ کردار ادا کرے۔ یقینا ظلم کی زبانی مذمت بھی اہم ہے لیکن حالات ہم سے زیادہ موثراورفوری عملی کاوشوں کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ وطن عزیز کے پاس ظلم کے خلاف جدوجہد کی شاندار تاریخی روایت اور سفارتی صلاحیت دونوں موجود ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ہم اس نسل کشی کے خلاف قائدانہ رول اد کرسکتے ہیں ۔

غزہ میں امدادی راہداریوں کے قیام پرزور

اس موقع پراس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا کہ انسانی بنیادوں پرفوری طورپرغزہ کے لیے امدادی راہداریوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور بنیادی ضروریات کا سامان بڑے پیمانے پر ہر ایک ضرورت مند تک پہنچایا جائے ۔ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہ ہو، ہندوستان اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام عسکری و اسٹریٹجک تعلقات معطل کرے۔ جب ہماری آنکھوں کے سامنے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، تو ایسی صورت میں ہمارے لیےخاموش یا غیرجانبدار بنے رہنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔

فلسطین اور غزہ کے مسئلہ کو سمجھنے کی اپیل

پریس کے ذریعہ مسلم قائدین نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطین اور غزہ کے مسئلہ کے سلسلے میں سمجھ اور حساسیت پیدا کریں۔ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ طلبہ، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم اور با ضمیر شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں- چاہے وہ مارچ ہوں، احتجاجی جلسے ہوں، بیداری مہمات ہوں، علمی مذاکرے ہوں یا بین المذاہب پروگرام، عوام بڑے پیمانے پر اس میں شرکت کرے۔ غزہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو مجرمانہ فعل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ رہنماؤں نے زوردیا کہ فلسطین کی حمایت کوئی جرم یا انتہا پسندی نہیں بلکہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور ہندوستانی آئین میں درج بنیادی اقدارکے عین مطابق ہے اوراس سے آگے بڑھ کر ہر باضمیر انسان کی اخلاقی و انسانی ذمہ داری ہے۔

اسرائیل کے ساتھ سفارتی وتجارتی تعلقات ختم کرنے کی اپیل

اس موقع پرمسلم اکثریتی ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی وتجارتی تعلقات ختم کریں اوراس غیرانسانی جارحیت کے خلاف متحدہ محاذ قائم کریں۔ پریس کانفرنس کا اختتام فوری اورغیر مشروط جنگ بندی، غزہ کے محاصرہ کے خاتمے ، عوام کو خوراک، پانی، ایندھن اورطبی امداد کی فراہمی اورامدادی راہداریوں کا قیام کے مطالبہ کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر مسلم تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ بھی شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

2 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

3 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

4 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

4 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

5 hours ago