بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے شہر مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لکشمن سنگھ نے تعلیم اور علم کے میدان میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ ملک کے لیے فخر کا باعث بھی بنا ہے۔ ان کی غیر معمولی تعلیمی جدوجہد اور کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آج ایک خصوصی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اُن کی زندگی کی داستان، حصول علم کا سفر اور اُن کے تازہ ریکارڈ کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی گئیں۔
13 مضامین میں یو جی سی نیٹ کا امتحان پاس کرنے کا بنایا ریکارڈ
ڈاکٹر لکشمن سنگھ نے 13 مختلف مضامین میں یو جی سی نیٹ (UGC NET) امتحان کامیابی سے پاس کر کے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کارنامہ اُن کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا، جس میں وہ 12 مضامین میں نیٹ امتحان پاس کر چکے تھے، اور جسے ’’انڈیا بُک آف ریکارڈز‘‘ نے بھی تسلیم کیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ڈاکٹر سنگھ تعلیم میں مسلسل ناکام ہو رہے تھے۔ وہ چوتھی جماعت میں ایک بار، نویں جماعت میں دو مرتبہ، اور گریجویشن کے دوران پانچ بار امتحانات میں فیل ہوئے، لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔ اپنی انتھک محنت، خود مطالعے اور پختہ ارادے کے بل پر وہ کامیابی کی ایسی منزل پر پہنچے جہاں بہت کم لوگ پہنچ پاتے ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے نہ صرف نیٹ کے امتحانات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی بلکہ انھوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے داخلہ امتحان کو بھی 33 مرتبہ مختلف مضامین میں کامیابی سے پاس کیا، جو اُن کے ہمہ جہتی علمی ذوق اور استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور ان کا تحقیقی کام بھارت اور نیپال میں سیاسی فن پر مرکوز ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اب تک 81 مختلف موضوعات میں مہارت حاصل کر چکے ہیں اور یہ سب کچھ خود مطالعہ کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ یہ کارنامے انھیں صرف ایک اسکالر نہیں بلکہ ایک تحریک بناتے ہیں۔
کسی سے بھی علمی مقابلے کے لیے تیار ہیں ڈاکٹر لکشمن
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر لکشمن سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے عالم ہیں اور دنیا کے کسی بھی فرد یا ادارے سے علمی مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چیلنج صرف اُن کی ذات کا نہیں بلکہ بھارت کی اس عظیم روایت کا حصہ ہے جو ہمیشہ سے علم، فلسفے اور تحقیق میں دنیا کی رہنمائی کرتی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس علمی میدان میں ’’جگت گرو بھارت‘‘ کے نمائندے کے طور پر کھڑے ہیں اور دنیا کو ایک بار پھر دکھانا چاہتے ہیں کہ بھارت آج بھی علم و حکمت کا مرکز ہے۔
ڈاکٹر لکشمن سنگھ کی یہ کہانی نہ صرف اُن کی ذاتی محنت، استقامت اور علم سے محبت کی گواہی ہے بلکہ یہ ہر اُس شخص کے لیے مشعل راہ ہے جو کسی وجہ سے تعلیم میں پیچھے رہ گیا ہو۔ اُن کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی لگن، مسلسل محنت اور خود اعتمادی کے ساتھ ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی یہ کامیابی یقیناً بھارت کے تعلیمی منظرنامے میں ایک روشن باب کا اضافہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…
نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن…
اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…
طیارہ بینن سے لاگوس کے لیے معمول کے مشن پر روانہ ہوا تھا، اسی دوران…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…