قومی

Delimitation Bill introduced: خصوصی پارلیمانی اجلاس کا آغاز، لوک سبھا میں ڈیلمٹیشن بل پیش، ایوان میں ہنگامہ، اپوزیشن کا طریقۂ کار پر شدید اعتراض

نئی دہلی: ملک میں خصوصی پارلیمانی اجلاس کا آج باضابطہ آغاز ہو گیا، جس کے دوران حکومت نے تین اہم بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

ڈیلمٹیشن بل پیش ہوتے ہی ہنگامہ

مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں ڈیلمٹیشن بل 2026 پیش کیا، جس کے فوراً بعد کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے سوالات اٹھائے۔ بل پیش ہونے کے ساتھ ہی ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا اور اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس سے قبل اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال پر ایوان میں تعزیت پیش کی گئی، جس کے بعد قانون سازی کا عمل شروع ہوا۔

خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافہ

حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں میں سب سے اہم مقصد خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو 2029 تک نافذ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 850 تک کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق، حد بندی کے عمل کے بعد نہ صرف لوک سبھا بلکہ ریاستی اسمبلیوں میں بھی تقریباً 50 فیصد تک نشستوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نمائندگی کا دائرہ وسیع ہوگا اور آبادی کے تناسب سے بہتر توازن قائم کیا جا سکے گا۔

اپوزیشن کا مشترکہ موقف اور اعتراضات

اپوزیشن جماعتوں نے اگرچہ خواتین ریزرویشن کی اصولی حمایت کی ہے، لیکن ڈیلمٹیشن بل اور اس کے نفاذ کے طریقۂ کار پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔ کانگریس صدر ملکار جن کھڑگے نے کہا کہ بل کا مقصد درست ہو سکتا ہے، مگر حکومت کا طریقہ کار سیاسی ہے اور اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر متحد ہو کر پارلیمنٹ میں آواز اٹھائے گی۔ اسی سلسلے میں دہلی میں اپوزیشن کی ایک اہم میٹنگ بھی منعقد ہوئی، جس میں راہل گاندھی سمیت تقریباً 20 جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔  جنوبی ہند کی کئی ریاستوں نے بھی حد بندی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی نئی تقسیم سے ان کی قومی سطح پر سیاسی طاقت کم ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ کسی بھی ریاست کی نشستیں کم نہیں ہوں گی بلکہ سب کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ خصوصی پارلیمانی اجلاس کے دوران ان بلوں پر 18 گھنٹے بحث متوقع ہے، جس کے بعد لوک سبھا سے منظوری کے بعد انہیں راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف قانون سازی بلکہ آئندہ ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

3 minutes ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

30 minutes ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

48 minutes ago

20th Rozgar Mela: روزگار میلے میں وزیر اعظم نریندر مودی 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو دیں گے تقرری نامے

روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…

1 hour ago

Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد بڑھنے سے ملازمین پر کیا اثر پڑے گا،کیوں ہو رہی ہے تنقید؟

ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…

1 hour ago