قومی

Sambhal Violence Case: سنبھل تشدد معاملے میں ضیاء الرحمٰن برق کی مشکلات میں ہوسکتا ہے اضافہ، سروے والے دن بھیڑکے لئے دباؤ بنانے کا الزام

اترپردیش واقع سنبھل میں نومبر 2024 میں ہوئے تشدد معاملے میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ میڈیا کی خبر کے مطابق، ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شاہی جامع مسجد کے صدر ظفرعلی کے معاملے میں داخل کی گئی کیس ڈائری میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کا بھی نام شامل ہے۔

پولیس نے مسجد کمیٹی کے صدر ظفرعلی ایڈوکیٹ کی کیس ڈائری آج عدالت میں داخل کی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کیس ڈائری میں صدر ظفرعلی اور سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے سنبھل تشدد کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے بڑے ثبوت ہیں۔

ذرائع کے مطابق، کیس ڈائری میں صدر ایڈوکیٹ ظفرعلی کا قبول نامہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کا دباؤ تھا کہ وہ بھیڑ جمع کرکے سروے کی مخالفت کریں۔ اے ڈی جے کورٹ میں ظفرعلی کی ضمانت عرضی پر سماعت 4 اپریل کویعنی آج ہونی ہے۔

نوٹس تعمیل کرانے پہنچی تھی ایس آئی ٹی

اس سے قبل 25 مارچ کو ایس آئی ٹی رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو پوچھ گچھ کے لئے نوٹس تعمیل کرانے پہنچی، لیکن وہ اوران کی فیملی کا کوئی نہیں ملا تھا۔ حالانکہ اس کے بعد منگل کی دیر رات اترپردیش پولیس کی ایس آئی ٹی ٹیم رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو نوٹس سونپنے کے لئے دہلی کے ویسٹرن کورٹ واقع ایم پی ہاسٹل پہنچی۔ حالانکہ اس کے بعد رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے اے این آئی کو بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور رکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کو جانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی ایس آئی ٹی

اس سے پہلے، سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کرشنا کماربشنوئی نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پرایس آئی ٹی نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی، لیکن وہ نہیں ملے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب ایس آئی ٹی کی ٹیم ان کو نوٹس تعمیل کرانے دہلی جائے گی۔ پیرکے روزکرشنا کماربشنوئی نے صحافیوں کوبتایا تھا کہ 24 نومبرکی تشدد سے متعلق درج معاملے میں قانونی کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

بیان درج کیا جانا ضروری

ایس پی کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق معاملے میں نامزد ملزم ہیں اوراس کی بنیاد پران کا بیان درج کیا جانا ضروری ہے۔ گزشتہ سال مقامی عدالت کے حکم پرسنبھل کی جامع مسجد میں ایک سروے کے دوران ہوئے احتجاج کے بعد تشدد بھڑک گیا، جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی اورپولیس اہلکاروں سمیت دیگرلوگ زخمی ہوگئے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Pakistan fast bowler Kainat Imtiaz: پاکستان کی تیز گیند باز کائنات امتیاز کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

کائنات نے گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی پاکستان کے لیے اہم کردار ادا…

41 minutes ago

Sanjay Dutt: بھارت میں اب پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا، سنجے دت کا بیان وائرل

سنجے دت نے کہا کہ ملک کے لوگ بہت پیارے ہیں اور یہاں امن ہونا…

1 hour ago

Protest Against CEC Gyanesh Kumar: ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی میں احتجاجی مارچ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی…

1 hour ago

PM Modi congratulates Antim Panghal: وزیراعظم مودی نے انتم پنگھل اور خواتین گولف ٹیم کو سلور میڈل جیتنے پر دی مبارکباد

انتم نے 53 کلوگرام فری اسٹائل ریسلنگ میں سلور جیتا۔ پرنوی ارس، ادیتی اشوک اور…

2 hours ago

Pappu Yadav: پٹنہ اور دہلی کو پتہ ہی نہیں کہ چھپرا ڈوب گیا، پپو یادو بولے- 5 دن سے لوگ بھوکے ہیں

پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا…

2 hours ago