قومی

Iqra Choudhary on Love Jihad: یوگی حکومت کے لو جہاد قانون پر سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن ہوئیں برہم، جانئے کیا کہا؟

اترپردیش کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن چودھری نے یوپی کی یوگی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ مذہب کی تبدیلی سے متعلق قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقرا نے یوگی حکومت پر کئی سوال اٹھائے۔

اقرا حسن نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت صرف مذہب کی سیاست کرنا جانتی ہے۔ اسی طرح ریاستی حکومت جس طرح سول معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، اس سے جمہوری ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے۔

‘حکومت کو مداخلت کی ضرورت نہیں’

اقرا نے کہا کہ جب یہ موضوع پہلے ہی معاشرے میں موجود ہے۔ ہمارے علاقے میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں اور موجودہ قانون کے تحت کارروائی ہو رہی ہے۔ جب کوئی بالغ شخص آئین میں دیے گئے حقوق کو اپنی رضامندی سے استعمال کر رہا ہو تو پھر حکومت کو اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

‘بی جے پی مذہبی سیاست کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے’

اگر تبدیلی دھوکہ دہی سے ہو رہی ہے یا غلط طریقے سے ہو رہی ہے تو ہمارے پاس پہلے سے موجود قوانین کافی ہیں، لیکن بی جے پی مذہب کی سیاست کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے۔ کانوڑ یاترا کے دوران نام کی پلیٹ لگانے کا جو حکم انہوں نے دیا تھا وہ اسی کے تحت تھا۔ اب ان کی سیاست دم توڑ رہی ہے، اسی لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ہمارے صدر اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ بی جے پی کی حالت بجھنے سے پہلے پھڑپھڑانے والے چراغ جیسی ہے۔

یوگی حکومت لو جہاد کے ذریعے ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے

لو جہاد کے حوالے سے اقراء کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ایسے الفاظ کا استعمال زہر کا کام کرتا ہے۔ آئین دوسرے مذہب میں شادی کرنے کا حق دیتا ہے۔ یوپی میں بی جے پی حکومت جو کر رہی ہے وہ ان کا غصہ ہے، اسی لیے وہ تعصب کی سیاست کر رہے ہیں۔ اقرا نے مزید کہا کہ وہ لو جہاف کا لفظ ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں… یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر دوسرے مذاہب میں شادی کرتے ہیں، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے سیاسی مسئلہ نہیں۔ جس طرح معاشرے میں اس کو پھیلایا جا رہا ہے اس سے پورے معاشرے، ملک اور جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

شادی جیسے معاملات میں حکومتی مداخلت کی ضرورت نہیں

اگر کوئی اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کی اپنی مرضی سے ہوتا ہے… وہ تب کرتا ہے جب وہ اسے پسند کرتا ہے… اس کے بعد آئین آتا ہے… اگر آئین کسی شخص کو بولنے، کھانے کا انتخاب کرنے کا حق دیتا ہے۔ اگر اس کی پسند سفر کرنے، اپنی پسند کا جیون ساتھی چننے اور پھر شادی کرنے کا حق دیتی ہے تو حکومت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

1 hour ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

2 hours ago

Greater Noida Bus Fire: گریٹر نوئیڈا بس حادثہ: امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے کیا اظہارِ افسوس

یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، وزیر اعظم نریندر مودی نے روشیبینا دیوی، ستنم سنگھ اور سلمان خان کو دی مبارکباد

ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…

3 hours ago