کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق صدر سونیا گاندھی نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کو قابل مذمت اور اخلاقی بزدلی قرار دیا ہے۔ سخت لہجے میں لکھے گئے ایک مضمون میں انہوں نے غزہ پر اسرائیل کے حملے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر جنگ بندی، انصاف اور فلسطینی عوام کی حمایت میں آواز بلند کرے۔ سونیا گاندھی نے ہندی اخبار میں اپنے ایک مضمون ان خیالات کا اظہار کیا۔
اسرائیلی جوابی کارروائی سفاکی کی انتہا
سونیا گاندھی نے واضح کیا کہ اگرچہ7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی مذمت کی جانی چاہیے، لیکن اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جو فوجی کارروائی کی گئی وہ ظلم، تباہی اور انسانی المیے کی مثال بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف دو سال میں55,000 فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 17,000 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر رہائشی علاقوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ غزہ میں خوراک، دوا اور ایندھن کی رسد روک دینا اور امدادی قافلوں پر فائرنگ کرنا انسانیت کی توہین ہے۔
نسل کشی کی سیاست اور عالمی بے حسی
سونیا گاندھی نے لکھا کہ اسرائیلی کارروائی دراصل نسل کشی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کو 1948 کی نکبہ سے تشبیہ دی، اور کہا کہ یہ نہ صرف نوآبادیاتی سوچ کا نتیجہ ہے بلکہ اس کے پیچھے رئیل اسٹیٹ مافیا کا مفاد بھی شامل ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی عدالت انصاف جیسے ادارے اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ عالمی عدالت کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کو بھی اسرائیل نے نظر انداز کر دیا، جس میں اسے نسل کشی سے باز رہنے اور انسانی امداد پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔
امریکہ کا کردار اور بھارت کی خاموشی
انہوں نے امریکہ کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے اسرائیل کو براہِ راست یا بالواسطہ حمایت فراہم کی۔ انہوں نے جنوبی افریقہ، برازیل، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ملکوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے اسرائیلی بربریت کے خلاف عملی اقدامات کیے ہیں، جبکہ بھارت خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
ہندوستان کی وراثت اور آئینی ذمہ داری
سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ عالمی انصاف، نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف جدوجہد اور انسانی حقوق کی وکالت کی ہے۔ پی ایل او کو تسلیم کرنا اور فلسطینی ریاست کو باضابطہ منظوری دینا اس کی مثالیں ہیں۔ ایسے میں غزہ کے المیے پر مودی حکومت کی خاموشی ہمارے آئینی اصولوں سے غداری ہے۔ انہوں نے آئین کے رہنما اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی نہ صرف شرمناک ہے بلکہ ہندوستان کے اخلاقی ضمیر پر ایک داغ ہے۔
مودی سے براہ راست سوال
آخر میں سونیا گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور ہندوستان کی تاریخی وراثت کے مطابق انصاف اور انسانیت کی آواز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی برادری سکتے میں ہے تو گلوبل ساؤتھ کو ہندوستان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…