قومی

Congress Working Committee Meeting: ’جامع ہندوستان، سماجی انصاف اور قومی ہم آہنگی‘، کانگریس کی قرارداد میں نئی سیاست کا اعلان

احمدآباد میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے اجلاس کے دوران کانگریس پارٹی نے ایک اہم سیاسی قرارداد منظور کی، جس میں پارٹی نے خود کو ’جامع ہندوستان‘، ’سماجی انصاف‘ اور ’قومی ہم آہنگی‘ کے نظریات کا نقیب قرار دیا۔ قرارداد کو سینئر رہنما سچن پائلٹ نے پیش کیا، جس کی ڈاکٹر ششی تھرور نے تائید کی اور کہا کہ آج کے ہندوستان کو تقسیم، نفرت اور مایوسی سے نکال کر اُمید، شمولیت اور انصاف کی طرف لے جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ قرارداد ایک تاریخی موقع پر منظور کی گئی ہے، جب مہاتما گاندھی کے کانگریس صدر بننے کے 100 سال اور سردار پٹیل کی 150ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ گجرات کے پس منظر میں، جہاں کانگریس تین دہائیوں سے اقتدار سے باہر ہے، اس قرارداد کے ذریعے پارٹی نے اپنے احیاء کا اعلان کیا ہے۔ تھرور نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں کانگریس کی لوک سبھا میں نشستیں دوگنا ہوئیں لیکن ریاستی سطح پر کچھ جھٹکے بھی لگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے اگر پارٹی مثبت بیانیے کو اپنائے اور مسلسل منفی سیاست سے گریز کرے۔ قرارداد میں زور دیا گیا کہ کانگریس کی قوم پرستی کسی مخصوص مذہب، زبان یا خطے پر مبنی نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کی فلاح پر مرکوز ہے۔ اس میں کہا گیا کہ کانگریس ان سب کی جماعت ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں، دلت، آدیواسی، پسماندہ طبقات، خواتین اور اقلیتیں۔

ششی تھرور نے کہا، ’’ہمارا نظریہ یہ ہے کہ آپ ایک اچھے گجراتی، ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے ہندوستانی بیک وقت ہو سکتے ہیں۔ ہم سب کی شناختوں کا احترام کرتے ہوئے ایک متحد قوم بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے شمال و جنوب کی تقسیم کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’نفرت چھوڑو، بھارت جوڑو‘ صرف نعرہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو ہمیں ملک کے ہر کونے کو جوڑنے کی یاد دلاتا ہے۔ ملیالم زبان میں مشہور شاعر ولّاتھول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب ہندوستان کا نام آئے تو دل فخر سے بھر جائے اور کیرالہ کا نام آئے تو خون میں جوش آ جائے۔‘‘ قرارداد میں نوجوانوں کے مسائل کو ترجیح دی گئی ہے۔ کہا گیا کہ پارٹی کی پالیسیوں کو اس بنیاد پر پرکھا جائے گا کہ وہ آج کے نوجوانوں کے لیے کیا کر سکتی ہیں اور کل کیسا ہندوستان دے سکتی ہیں۔ معاشی ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم، محروم طبقات کی شمولیت اور پارٹی کارکنان کی قربانیوں کا اعتراف اس قرارداد کا بنیادی حصہ ہے۔ تھرور نے کارکنان سے کہا، ’’آپ ہماری طاقت ہیں۔ آپ کے بغیر یہ قرارداد صرف ایک کاغذی دستاویز ہوتی۔‘‘ آخر میں انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ماضی کی وراثت پر فخر ضرور ہے لیکن اب وقت ہے کہ ہم خود کو مستقبل کی جماعت کے طور پر پیش کریں، ایک ایسی جماعت جو نفرت نہیں، اُمید لے کر آئے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

3 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

4 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

4 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

5 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

6 hours ago