نئی دہلی: ملک کی سرحدی سلامتی اور تجارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج منگل کے روز لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم (LPMS) کا آغاز کریں گے۔ یہ ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو بھارت کے زمینی سرحدی بندرگاہوں (لینڈ پورٹس) کے انتظام اور کام کاج کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ اس نئے نظام کے نفاذ کے بعد ملک کے لینڈ پورٹس بھی بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور سمندری بندرگاہوں کی طرز پر زیادہ محفوظ، منظم اور ہائی ٹیک بن جائیں گے۔سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے اسمارٹ بارڈر مینجمنٹ کے وژن کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایل پی ایم ایس کے ذریعے سرحدی علاقوں میں مال بردار گاڑیوں، ٹرکوں اور مسافروں کی آمد و رفت سے متعلق معلومات کا حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں محفوظ اور مؤثر تبادلہ ممکن ہو سکے گا۔
اس جدید پلیٹ فارم میں اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل ورک فلو کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت تاجروں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور مسافروں کو متعدد خدمات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔ ان خدمات میں سلاٹ بکنگ، آن لائن ادائیگی، کارگو ٹریکنگ اور سنگل ونڈو کلیئرنس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس نظام سے نہ صرف کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ سرحد پار نقل و حمل میں ہونے والی تاخیر بھی کم ہو جائے گی۔
ایل پی ایم ایس کو بھارتی کسٹمز کے آئیس گیٹ (ICEGATE) اور موٹر وہیکل ایکو سسٹم سمیت مختلف قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی مربوط کیا گیا ہے، جس سے شفافیت، نگرانی اور انتظامی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نظام سرحدی تجارت کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے معیار کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ میگھالیہ کے داوکی (Dawki) اور تریپورہ کے شریمنت پور (Srimantpur) لینڈ پورٹس پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کے لیے تعمیر کی گئی نئی رہائشی سہولیات کا بھی ڈیجیٹل افتتاح کریں گے۔ ان جدید رہائشی منصوبوں کا مقصد دشوار گزار سرحدی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے جوانوں کو بہتر بنیادی سہولیات اور آرام دہ رہائش فراہم کرنا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی ’’لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا‘‘ (LPAI) اس وقت ملک بھر میں اٹاری، پیٹراپول، رکسول اور مورے سمیت 15 زمینی سرحدی بندرگاہوں کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ نیا لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم نہ صرف وکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت، رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کو بھی نئی رفتار دے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے سرحدی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…