نئی دہلی: حال ہی میں خبروں میں رہنے والی “کاکروچ جنتا پارٹی” (سی جے پی) کے بعد اب سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ایک نئی سیاسی جماعت “عشق کرو پارٹی” (IKP) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ کاٹجو کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی ملک کو درپیش سنگین سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو بھی اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔جسٹس کاٹجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے نئی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے “کاکروچ جنتا پارٹی” اور اس کے بانی ابھیجیت دیپکے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سی جے پی کی پالیسیوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے بنیادی مسائل کا حل محض علامتی احتجاج یا شخصیات کے استعفوں سے ممکن نہیں۔
اپنے ایکس پوسٹ میں کاٹجو نے کہا کہ بہت سے لوگ “عشق کرو پارٹی” کو محض مذاق یا ویلنٹائن ڈے طرز کی مہم سمجھ سکتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا مقصد نوجوانوں کے درمیان صرف رومانوی تعلقات کو فروغ دینا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے کو مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں غربت، بچوں میں غذائی قلت، بے روزگاری اور دیگر سنگین مسائل کا حل عوامی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اگر لوگ ذات پات، مذہب، نسل اور دیگر تفریقوں سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام کا جذبہ پیدا کریں تو ایک مضبوط عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔
کاٹجو نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اقتدار کے حصول اور اسے برقرار رکھنے میں مصروف ہے، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ان کے مطابق “عشق کرو پارٹی” کا بنیادی مقصد اسی رجحان کا مقابلہ کرنا اور عوام کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک کے کمزور اور محروم طبقات کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر شہری کو ذات، مذہب، نسل اور علاقائی تفریق سے اوپر اٹھ کر تمام ہندوستانیوں سے محبت کرنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسی جذبے کے ذریعے ملک میں مثبت سماجی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
جسٹس کاٹجو نے 6 جون کو دہلی کے جنتر منتر پر “کاکروچ جنتا پارٹی” کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے بانی ابھیجیت دیپکے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اہم مطالبات میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ شامل ہے، لیکن اگر ایک وزیر مستعفی بھی ہو جائے تو اس کی جگہ دوسرا وزیر آ جائے گا، اس سے نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔سیاسی حلقوں میں کاٹجو کی نئی جماعت کے اعلان کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ “عشق کرو پارٹی” عملی سیاست میں کس حد تک اثر انداز ہو پاتی ہے اور عوامی سطح پر اسے کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…