بین الاقوامی

H-1B Visa: امریکی عدالت سے ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز  کو ملی راحت،H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا فیصلہ کالعدم

نئی دہلی : امریکہ میں ملازمت کا خواب دیکھنے والے ہزاروں بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس متنازع فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت H-1B ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر (تقریباً 83 لاکھ بھارتی روپے) کی اضافی فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر کو نیا ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔امریکی ضلعی جج لیو ٹی سوروکن نے اپنے 42 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ یہ معاملہ امیگریشن پالیسی سے زیادہ آئینی اختیارات اور ان کی حدود سے متعلق ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر کو غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر پابندیاں یا شرائط عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور مجوزہ فیس اسی اختیار کا حصہ ہے۔تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ٹیکس کو محض پابندی یا انتظامی شرط کا نام دے کر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ جج سوروکن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی آئین کے مطابق ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ امیگریشن قوانین صدر کو بعض انتظامی قواعد بنانے کی اجازت ضرور دیتے ہیں، لیکن وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کمپنیوں یا غیر ملکی کارکنوں پر اتنا بڑا مالی بوجھ نہیں ڈال سکتے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے والی سرکاری ایجنسیوں نے مقررہ قانونی طریقہ کار اور ضوابط کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ امریکی کمپنیوں پر اچانک اتنی بھاری اضافی لاگت ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس اقدام کا قانونی جواز کیا تھا۔جج نے اپنے حکم میں اس پالیسی کو غیر قانونی اور صدارتی اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے پورے امریکہ میں فوری اثر کے ساتھ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت کے اس فیصلے کو امیگریشن اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق H-1B ویزا پروگرام کے ذریعے ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی انجینئرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور آئی ٹی ماہرین امریکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ اضافی فیس نافذ ہو جاتی تو نہ صرف بھارتی پیشہ ور افراد بلکہ انہیں ملازمت دینے والی کمپنیوں پر بھی کروڑوں روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑتا۔عدالتی فیصلے کے بعد بھارتی ٹیک کمپنیوں، آئی ٹی صنعت اور امریکہ میں کام کرنے کے خواہش مند ہزاروں نوجوانوں نے راحت کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے H-1B ویزا نظام میں استحکام آئے گا اور ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو غیر ضروری مالی رکاوٹوں سے بچانے میں مدد ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Ishaan Anand New Coordinator of BSP: آکاش آنند کے بعد اب کون؟ مایاوتی نے 27 سالہ ’نئے چہرے‘ ایشان آنند کو سونپی بسپا کی اہم ذمہ داری

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…

11 minutes ago

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

2 hours ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

2 hours ago