قومی

Yusuf Pathan’s Delhi visit questioned: تھوڑی شرم کرو اور ہمت دکھاؤ، مہوا موئترا یوسف پٹھان پر کیوں برس پڑیں؟

نئی دہلی: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کے درمیان بہرام پور سے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر یوسف پٹھان پر سخت تنقید کی ہے۔ موئترا نے یوسف پٹھان پر پارٹی کے باغی دھڑے کا ساتھ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں عوام کے اعتماد کا احترام کرنے کا مشورہ دیا۔یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے ،جب ترنمول کانگریس مبینہ طور پر اپنے قیام کے بعد کے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے 28 لوک سبھا اراکین میں سے 20 نے الگ ہو کر ایک نیا گروپ تشکیل دے دیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔کرشن نگر سے لوک سبھا رکن مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یوسف پٹھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ضلع کے لوگوں نے آپ کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا ہے، تھوڑی شرم کریں اور کچھ ہمت بھی دکھائیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ یوسف پٹھان نئی دہلی جانے اور مبینہ طور پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی دعوت قبول کرنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔مہوا موئترا اب بھی مغربی بنگال کی  سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں پارٹی کے باغی لیڈروں اور اراکین اسمبلی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں ایسے سیاست دان قرار دیا تھا جو صرف ممتا بنرجی کی مقبولیت کے سہارے سیاست میں قائم ہیں۔

یوسف پٹھان سے متعلق تنازع کیسے شروع ہوا؟

تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک بنگالی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ترنمول کانگریس نے سابق بھارتی کرکٹ کپتان سورو گنگولی کے ذریعے یوسف پٹھان سے اپنی لوک سبھا نشست چھوڑنے کی درخواست کی تھی۔ مبینہ طور پر پارٹی چاہتی تھی کہ بہرام پور سیٹ خالی ہو جائے تاکہ ممتا بنرجی وہاں سے ضمنی انتخاب لڑ سکیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یوسف پٹھان نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

بہرام پور میں پہلی بار ٹی ایم سی کی کامیابی

بہرام پور لوک سبھا حلقہ طویل عرصے تک کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، لیکن 2024 کے عام انتخابات میں یوسف پٹھان نے کانگریس کے سینئرلیڈر ادھیر رنجن چودھری کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ وہ ترنمول کانگریس کے قیام کے بعد بہرام پور سے کامیابی حاصل کرنے والے پہلے ٹی ایم سی امیدوار بنے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بہرام پور میں مسلم ووٹروں کی بڑی تعداد کے باعث ٹی ایم سی اس حلقے کو ممتا بنرجی کے لیے ایک محفوظ انتخابی میدان تصور کر رہی تھی۔ یوسف پٹھان کے مبینہ انکار اور پارٹی کے اندر جاری اختلافات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ترنمول کانگریس اس اندرونی بحران سے کیسے نمٹتی ہے اور یوسف پٹھان اس تنازع پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rahul Gandhi Statement: ’آج نہیں تو کل، جیت ہماری ہی ہوگی‘، اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی کا بیان

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…

23 minutes ago

Adani Group: اے آئی کی سونامی کے لیے بھارت تیار! اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil مل کر ملک میں بنائیں گے سرور اور کولنگ سسٹم

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…

47 minutes ago

HM Amit Shah’s reply to Rahul Gandhi: امت شاہ کا راہل گاندھی کو دوٹوک جواب، کہا- 2029 میں چوتھی شکست کے لیے تیار رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ڈیجیٹل سہولتوں سے گرین انرجی تک، وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سامنے گنوائیں بھارت کی کامیابیاں

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…

2 hours ago