وجے شاہ کے معاملے میں آج سپریم کورٹ میں سماعت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل (27 مئی 2025) کو اپنی رجسٹری کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی اسٹیٹس رپورٹ کو قبول کرنے کی ہدایت دی۔ جو مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر وجے شاہ کے کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف کیے گئے متنازعہ ریمارکس کی تحقیقات کے سلسلے میں درج کیا گیا ہے۔ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس دیپانکر دتہ کی بنچ نے سپریم کورٹ رجسٹری سے ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ کو ریکارڈ پر لینے کو کہا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ بدھ (28 مئی 2025) کو شاہ کی خصوصی رخصت کی پٹیشن (SLP) پر دوبارہ سماعت شروع کرنے والی ہے، جس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی وزیر کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہندوستان کے فوجی آپریشن ’آپریشن سندور‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شاہ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 22 اپریل کو کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان میں موجود لوگوں کی طرح ہی اسی برادری کی ایک بہن کو بھیجا تھا۔ وزیر کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے تشکیل دی ایس آئی ٹی
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو مدھیہ پردیش کیڈر کے تین سینئر آئی پی ایس افسران بشمول ایک خاتون آئی پی ایس افسر پر مشتمل ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جو بھارتی نیائے سنہیتا(بی این ایس) کی دفعہ 152، 196 (1) (بی) اور 197 کے تحت شاہ کے خلاف درج ایف آئی آر کی جانچ کرے گی۔ جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے 19 مئی کو اپنے حکم میں کہا تھا کہ ایس آئی ٹی کی سربراہی ایک افسر کرے گا جو انسپکٹر جنرل آف پولیس کے درجے سے نیچے نہیں ہے اور باقی دو ممبران بھی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا اس سے اوپر کے عہدے کے ہوں گے۔ متعلقہ ایف آئی آر کی جانچ فوری طور پر ایس آئی ٹی کو سونپ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ شاہ کے خلاف گرفتاری سمیت کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ساتھ ہی مدھیہ پردیش کے وزیر سے کہا گیا کہ وہ تحقیقات میں شامل ہوں اور مکمل تعاون کریں۔
ایس آئی ٹی نے کیس میں کیا کیا؟
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی کیلاش مکوانہ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ہفتہ کے روز، تین رکنی ایس آئی ٹی نے اندور ضلع کے مہو علاقے کے قریب رائکنڈہ گاؤں کا دورہ کیا، جہاں شاہ نے 12 مئی کو ایک عوامی تقریب میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ ٹیم نے گاؤں کے سرپنچ اور سکریٹری سے ملاقات کی۔ اس دوران ایس آئی ٹی نے متعلقہ دستاویزات جمع کیے جس میں واقعے کی ویڈیو فوٹیج اور حاضرین کی فہرست بھی شامل ہے۔
بتا دیں کہ اس پہلے، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 14 مئی کو ڈی جی پی کو حکم دیا تھا کہ وہ چار گھنٹے کے اندر شاہ کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کریں اور تعمیل میں کسی بھی تاخیر کی صورت میں اعلیٰ پولیس افسر کو توہین عدالت کی کارروائی کا انتباہ دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…
ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…
وزیر اعظم نریندر مودی نے رِگ وید کا مقدس منتر شیئر کرتے ہوئے گناہوں سے…