قومی

Sign of farmers’ prosperity in UP: پچھلے 8 سالوں میں ٹریکٹر کی فروخت میں 62 فیصد سے زیادہ کا اضافہ یوپی میں کسانوں کی خوشحالی کی علامت،یوپی حکومت

اتر پردیش حکومت نے اعلان کیا کہ گزشتہ آٹھ سالوں (2016-17 سے 2024-25) کے دوران ریاست میں ٹریکٹر کی فروخت میں 62 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ کسانوں کی خوشحالی کی علامت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2016-17 میں ٹریکٹروں کی تعداد 88,000 تھی، جو 2024-25 تک بڑھ کر 1,42,200 ہو گئی۔ اس اضافے کو حکومت نے کسانوں کی معاشی بہتری سے منسوب کیا ہے، جس کے تحت زرعی مشینی آلات کے استعمال میں تیزی آئی ہے۔ وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی نے کہا کہ اس عرصے میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے، جن میں سبسڈی، قرضوں کی فراہمی، اور جدید زرعی تکنیکوں کو فروغ دینا شامل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹریکٹر کی فروخت میں اضافہ دیہی علاقوں میں خوشحالی اور زرعی پیداوار میں بہتری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس اضافے سے نہ صرف کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھی ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی تقویت ملی ہے۔ اس کے علاوہ، اتر پردیش میں گنے کی پیداوار میں بھی 68 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے کسانوں کو تقریباً 1,200 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہوئی۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں کسانوں کو گنے کی قیمتوں کی مد میں 2.80 لاکھ کروڑ روپے ادا کیے گئے، جو کہ 1995 سے 2017 کے 22 سالوں کے دوران ادا کی گئی کل رقم سے 66 کروڑ روپے زیادہ ہے۔

تاہم، کچھ ماہرین اور اپوزیشن لیڈروں نے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹریکٹر کی فروخت میں اضافہ کسانوں کی خوشحالی کا درست اشاریہ نہیں ہو سکتا۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ بہت سے کسانوں نے قرضوں کے ذریعے ٹریکٹر خریدے ہیں، جو ان کی مالی مشکلات کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کسانوں کی بنیادی ضروریات جیسے کہ کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اعداد و شمار کسانوں کی حقیقی حالت کو نہیں دکھاتے۔

اس کے باوجود، اتر پردیش حکومت نے اپنے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ 158 کوآپریٹو گنے کی کمیٹیوں، 27 کوآپریٹو شوگر ملوں، اور 152 گنے کی ترقیاتی کونسلوں کے ذریعے کسانوں کو مسلسل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سرکاری ترجمان نے مزید کہا کہ گنے کے شعبے نے 2024-25 میں ریاست کی مجموعی قدر میں 1.09 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے، جو کہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے بلکہ ریاست کی مجموعی معیشت کو بھی استحکام ملا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

24 minutes ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

56 minutes ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

11 hours ago