ٹرمپ کی ناراضگی کے باوجودایپل اپنی آئی فون پروڈکشن کو بھارت میں بڑھانے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے، باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مینوفیکچرنگ کو ترجیح دینے کی بات کی ہے۔ فاکس کان، جو ایپل کا سب سے بڑا کنٹریکٹ مینوفیکچرر ہے، کرناٹک کے دیوانہلی پلانٹ میں 2.56 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کا مقصد دسمبر 2025 تک 100,000 آئی فونز تیار کرنا ہے۔ یہ پلانٹ 300 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور بنگلور کے کیمپیگوڑا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 34 کلومیٹر کے فاصلے پر دوداگولہلی اور چپراداہلی گاؤں میں واقع ہے۔ فاکس کان نے پہلے مرحلے (2023-24) میں 3,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی، اور دوسرے مرحلے (2026-27) میں بھی اسی مقدار کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس پلانٹ میں 30,000 ملازمین کے لیے ڈورمیٹریز بنائی جا رہی ہیں، جو بھارت میں اس قسم کی سب سے بڑی سہولت ہوگی اور بنیادی طور پر خواتین ورک فورس کے لیے بنائی جا رہی ہے۔
فاکس کان کا یہ منصوبہ، جسے “پروجیکٹ ایلیفنٹ” کہا جاتا ہے، اس کی چین+1 حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنی پیداوار کو چین سے باہر متنوع بنانا چاہتا ہے۔ دیوانہلی پلانٹ سے جون 2025 سے شپمنٹس شروع ہونے کی توقع ہے، اور یہ پلانٹ چین کے بعد فاکس کان کی دوسری سب سے بڑی سہولت بن جائے گا۔ کمپنی نے تامل ناڈو کے سری پیرومبدور یونٹ میں بھی 18,000 ورکرز کے لیے ڈورمیٹریز بنائی ہیں۔ دیوانہلی پلانٹ میں 50 سے 80 فیصد ورک فورس خواتین پر مشتمل ہے، اور انہیں رہائش میں ترجیح دی جائے گی، کیونکہ وہ دور دراز سے سفر کرتی ہیں۔ مئی 2025 سے کچھ آئی فون ماڈلز کی اسمبلی شروع ہو چکی ہے، جبکہ دیگر ماڈلز کی پیداوار اگست میں شروع ہوگی۔ ستمبر میں آئی فون 17 کے لانچ سے پہلے تیاریاں زوروں پر ہیں، اور قریبی علاقے میں وان ہائی کنٹینر ٹرکس دیکھے گئے ہیں، جو شپمنٹس کے لیے تیار ہیں۔
فاکس کان کے اس منصوبے سے مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لیکن کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تائیوانی ملازمین، جو سینئر عہدوں پر ہیں، قریبی علاقوں میں مہنگے رہائشی منصوبوں میں رہائش پذیر ہیں، جہاں کرایہ 2.5 لاکھ روپے سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے مقامی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور عام شہریوں کے لیے رہائش کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ایک ملازمہ نے بتایا کہ پلانٹ میں کام کا آغاز گزشتہ سال سے ہوا، اور خواتین شفٹوں میں، بشمول رات کی شفٹوں میں، کام کر رہی ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ اس بڑے پیمانے پر پیداوار سے مقامی کمیونٹی کو طویل مدتی فوائد کس حد تک حاصل ہوں گے، کیونکہ زیادہ تر منافع غیر ملکی کمپنیوں کو جائے گا۔
اس کے علاوہ، فاکس کان کی جانب سے بنیادی طور پر خواتین ورک فورس پر انحصار کچھ سماجی مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ اگرچہ ڈورمیٹریز خواتین کے لیے سہولت فراہم کریں گی، لیکن شفٹوں میں کام، خاص طور پر رات کی شفٹوں، سے ان کی صحت اور سماجی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ فاکس کان اور ایپل نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن یہ واضح ہے کہ بھارت میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانے کی یہ کوشش عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ تاہم، اس عمل میں مقامی کمیونٹی کے مفادات اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ منصوبہ واقعی پائیدار ترقی کا باعث بن سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب…
پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ رہنما دعویٰ…
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 4200 میٹر اور اس سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں…
یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…
منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت…
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…