نئی دہلی : مدھیہ پردیش کے بدھنی اسمبلی حلقے کے کوسمی گاؤں میں غریب خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا معاملہ اب ریاستی حکومت کے لیے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان رات کے وقت گاؤں پہنچے۔ وہاں ٹوٹی ہوئی جھونپڑیاں، تباہ شدہ فصلیں اور سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور لوگوں کی حالت دیکھ کر وہ برہم ہو گئے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ کارروائی جس نے بھی کی ہے، اسے بخشا نہیں جائے گا۔شیوراج سنگھ چوہان نے انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کوسمی گاؤں میں غریبوں کی فصلیں برباد کر دی گئیں، ان کے گھروں کو منہدم کر دیا گیا اور یہاں تک کہ کنویں کو بھی مٹی ڈال کر بھر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تباہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انتظامیہ کا کوئی افسر موجود نہ ہونے پر برہم ہوئے شیوراج
اتوار کو جب مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کوسمی گاؤں پہنچے تو ان کے ساتھ نہ تو ضلع انتظامیہ کا کوئی افسر موجود تھا اور نہ ہی محکمہ جنگلات کا کوئی اہلکار۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ مزید ناراض ہو گئے۔انہوں نے فوری طور پر بھوپال فون کیا اور ریاست کے چیف سکریٹری اشوک ورنوال سے اس واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے انتظامیہ کی کارروائی اور متعلقہ افسران کی غیر موجودگی پر سوال اٹھائے۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو سے کریں گے شکایت
شیوراج سنگھ چوہان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال سے بھی بات کرکے کوسمی گاؤں کے حالات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس پورے معاملے پر وزیر اعلیٰ موہن یادو سے ملاقات کریں گے اور لاپروائی برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
’یہ آمریت ہے اور انتہائی شرمناک ہے‘
انتظامیہ کی بلڈوزر کارروائی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ غریبوں کے گھر اجاڑنے کے ساتھ ان کے کھیتوں میں مکئی اور ارہر کی فصلیں بھی پوری طرح روند دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حد تو اس وقت ہو گئی جب کنویں کو بھی مٹی سے بھر دیا گیا۔ان کے مطابق، غریب خاندانوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ آمریت سے کم نہیں اور انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے کارروائی کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قدم اٹھانے پر زور دیا۔
متاثرہ خاندانوں کو پکے مکانات دینے کا اعلان
شیوراج سنگھ چوہان نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے انہیں تسلی دی اور یقین دہانی کرائی کہ جن لوگوں کے گھر توڑے گئے ہیں، انہیں نئے پکے مکانات تعمیر کرکے دیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل رہائش کا انتظام نہیں ہو جاتا، اس وقت تک حکومت کی جانب سے ان کے رہنے اور کھانے پینے کا فوری انتظام کیا جائے گا۔کوسمی گاؤں کا یہ معاملہ اب ریاستی انتظامیہ کی کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے حوالے سے اہم ہو گیا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھائیں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے…
رپورٹ کے مطابق، کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں 12 افراد…
دہلی پولیس نے جنتر منتر پر سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہ دینے…
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز آندھی کے دوران بعض مقامات پر بڑے…
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کانگریس لیڈروں راہل گاندھی، ملیکارجن…