قومی

Shashi Tharoor misses major Congress party meeting: کانگریس کی اہم میٹنگوں سے ششی تھرور مسلسل غیرحاضر، بی جے پی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں تیز

نئی دہلی: کانگریس کے اندر سیاسی ہلچل ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل اتوار کو سونیا گاندھی کی قیادت میں ہونے والی اہم حکمتِ عملی کی میٹنگ میں پارٹی کے کئی بڑے لیڈر شریک ہوئے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نظر نہیں آئے۔ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے، جب ششی تھرور نے پارٹی کی اہم میٹنگ سے فاصلہ اختیار کیا، جس سے سیاسی حلقوں میں بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔

دفتر کا موقف — خاندانی ذمہ داری اور انتخابی مصروفیت

ششی تھرور کے دفتر کی جانب سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان دنوں وہ کیرالہ میں اپنی 90 سالہ والدہ کی تیمارداری میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی مقامی باڈی الیکشن کے انتخابی مہم میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں، اسی لیے وہ دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال بھی انتخابی مہم کے باعث میٹنگ میں نہیں پہنچ پائے۔

SIR میٹنگ سے بھی غیر حاضری

اس سے قبل خصوصی گہری جانچ (SIR) کے موضوع پر بلائی گئی اہم میٹنگ میں بھی ششی تھرور غیر حاضر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے خرابیٔ صحت کا حوالہ دیا تھا، حالانکہ اس سے ایک دن پہلے وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے نظر آئے تھے اور سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کی تعریف بھی کی تھی۔ یہی بات اپوزیشن سمیت کانگریس کے اندر بھی تنقید اور بحث کا سبب بنی ہے۔

پارٹی کے اندر شکوک و شبہات میں اضافہ

مسلسل غیر حاضری اور وزیر اعظم مودی کے لیے نرم لہجہ اختیار کرنے کے واقعات پر پارٹی کے اندر اور باہر دونوں سطح پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کے رویے نے کارکنوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جب کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کی سیاسی سمت بدل رہی ہے۔

بی جے پی میں جانے کی قیاس آرائیاں

سیاسی گلیاروں میں یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں کہ ششی تھرور آنے والے دنوں میں اپنی سیاسی راہ تبدیل کر سکتے ہیں اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ تھرور کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، لیکن ان کی حالیہ سرگرمیوں نے کانگریس کی قیادت کے لیے تشویش بڑھا دی ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے کچھ دن ششی  تھرور کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں، اور ان کے آئندہ قدم پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

شریانش موہن نے این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا، قومی اردو کونسل کے ذمہ داران نے کیا استقبال

ہندوستانی زبانوں اور ادب سے اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا…

2 hours ago

Dhanteras 2026: وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے دھن تیرس کی دی مبارکباد

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی اس موقع پر ملک کے عوام کو نیک…

3 hours ago