قومی

Shaheed Bhagat Singh on his birth anniversary: قوم کے وقار کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا بھگت سنگھ کا جذبہ ہندوستان کے نوجوانوں کی ہمت اور عزم کی علامت ہے: وزیر اعظم مودی

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے شہید بھگت سنگھ کو ان کی یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے وقار کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا بھگت سنگھ کا جذبہ ہندوستان کے نوجوانوں کی ہمت اور حوصلے کی علامت ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’شہید بھگت سنگھ کو ان کی یوم پیدائش پر کروڑوں بار سلام۔ اپنے بے مثال حوصلے اور بہادری سے انہوں نے آزادی کی تحریک کو ایک نئی سمت دی۔ قوم کے وقار کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا ان کا جذبہ ہندوستان کے نوجوانوں کی ہمت اور حوصلے کی علامت ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ایک ویڈیو پیغام بھی شیئر کیا۔ اس میں پی ایم مودی نے کہا کہ امر شہید بھگت سنگھ ہر ہندوستانی، خاص طور پر ملک کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ بے خوفی ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ملک کے لیے پھانسی کے پھندے پر جھولنے سے قبل بھگت سنگھ نے انگریزوں کو ایک خط بھی لکھا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھگت سنگھ نے انگریز حکومت سے کہا تھا کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی جان پھانسی دے کر نہیں بلکہ گولی مار کر لی جائے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ ان کے بے مثال حوصلے کا ثبوت تھا۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھگت سنگھ لوگوں کی تکالیف کے تئیں بھی انتہائی حساس تھے اور ان کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہید بھگت سنگھ کو عقیدت کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

آزادی کی تحریک میں کم عمری سے سرگرم

شہید بھگت سنگھ کی پیدائش 28 ستمبر 1907 کو اُس وقت کے پنجاب میں ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے عظیم انقلابیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انقلاب کی علامت بن گئے۔جلیانوالہ باغ قتل عام کے وقت بھگت سنگھ کی عمر محض 12 سال تھی۔ 1920 میں مہاتما گاندھی کی ’عدم تعاون تحریک‘ سے متاثر ہو کر انہوں نے اسکول چھوڑ دیا اور آزادی کی جدوجہد میں شامل ہوگئے۔

لالہ لاجپت رائے کی موت کا لیا بدلہ

بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی انقلابیوں کے ساتھ مل کر لالہ لاجپت رائے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے برطانوی پولیس افسر جے پی سانڈرز کو قتل کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ کی شناخت پورے ملک میں ایک انقلابی کے طور پر بن گئی۔8 اپریل 1929 کو بھگت سنگھ نے بٹوکیشور دت کے ساتھ مل کر ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مرکزی اسمبلی میں بم پھینکا۔ اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ، راج گرو، سکھ دیو اور دیگر انقلابیوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

23 مارچ 1931 کو دی گئی پھانسی

برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو پھانسی دے دی۔ تینوں انقلابیوں کی قربانی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک اہم باب بن گئی اور بھگت سنگھ نوجوانوں کے لیے قربانی، حوصلے اور حب الوطنی کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Congratulates Indian Teams :چیس اولمپیاڈ میں سلور اور برونز میڈل جیتنے پر پی ایم مودی نے بھارتی ٹیم کو دی مبارکباد

میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…

10 minutes ago

Cockroach Janata Party: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو آشوتوش رنکا کا چیلنج، کہا-ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے

آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…

3 hours ago

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

11 hours ago