سپریم کورٹ نے گواہوں کو دھمکانے کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ تعزیرات ہند قانون (آئی پی سی) کی دفعہ 195 اے کے تحت گواہ کو دھمکانے کا جرم قابلِ دست اندازی پولیس (سنجیدہ جرم) ہے۔ اس کے تحت پولیس عدالت کی شکایت کا انتظار کیے بغیر براہِ راست ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر سکتی ہے۔
کیریل ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ
جسٹس سنجے کمار کی سربراہی والی بنچ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دفعہ 195 اے کے تحت گواہ کو دھمکانے کے جرم میں پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی، اور اس کی کارروائی صرف متعلقہ عدالت کی تحریری شکایت کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔
گواہ کے بیان پر ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار
سپریم کورٹ نے کہا کہ دفعہ 195 اے کو ایک الگ اور مخصوص جرم کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس کا اپنا طریقہ کار ہے۔ یہ جرم سنجیدہ نوعیت کا ہے، اس لیے پولیس کو گواہ کے بیان پر براہِ راست ایف آئی آر درج کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی دھمکائے گئے گواہ سے یہ توقع کرنا کہ وہ پہلے عدالت جا کر شکایت کرے، عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا کرنا لازمی قرار دیا جائے تو انصاف کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوگی، کیونکہ اس کے لیے تعزیری ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 195(1) اور 340 کے تحت طویل کارروائی کرنی پڑے گی، جو عدالتی نظام کو غیر مؤثر بنا دے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…