سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما سے متعلق واقعے کو لے کر بہت سی غلط معلومات اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس یشونت ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے مبینہ طور پر آگ بجھانے کے دوران بڑی رقم برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جسٹس ورما کے الہ آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کی تجویز کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس معاملے کے لیے کالجیم نے داخلی تحقیقات شروع کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اطلاع ملنے پر دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے شواہد اور معلومات جمع کرنے کے لیے داخلی تحقیقات شروع کی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے، جنھوں نے 20 مارچ کو کالجیم میٹنگ سے پہلے انکوائری شروع کی تھی، آج ہی چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کو رپورٹ پیش کریں گے۔ اس کے بعد ہی عدالت مزید ضروری کارروائی کرے گی۔
جسٹس ورما کے گھر نہیں ملی کوئی نقدی: دہلی فائر سروس چیف
دریں اثنا دہلی فائر سروس کے سربراہ اتل گرگ نے جمعہ کو کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر آگ بجھانے کے دوران فائر فائٹرز کو کوئی نقد رقم نہیں ملی۔گرگ نے بتایا کہ کنٹرول روم کو 14 مارچ کی رات 11.35 بجے جسٹس ورما کی رہائش گاہ میں آگ لگنے کی کال موصول ہوئی اور دو فائر ٹینڈر فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فائر ٹینڈر 11.43 بجے موقع پر پہنچ گئے۔ آگ ایک اسٹور روم میں لگی تھی جس میں اسٹیشنری اور گھریلو سامان موجود تھا۔ آگ پر قابو پانے میں 15 منٹ لگے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آگ بجھانے کے فوراً بعد ہم نے پولیس کو آگ کے واقعے کے بارے میں مطلع کیا۔ اس کے بعد فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی ایک ٹیم موقع سے روانہ ہوئی۔ ہمارے فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران کوئی نقد رقم نہیں ملی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…
ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…
مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…
ڈاکٹر سید فاروق، صدر ہمالیہ ڈرگس نے مسابقۂ قرآن کریم کے کامیاب انعقاد پر مسرت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…
نئی دہلی میں نیتی آیوگ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انڈمان و نکوبار کے لیفٹیننٹ…