سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدھیہ پردیش حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک قیدی کو 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرے، جسے اپنی سات سالہ سزا مکمل کرنے کے باوجود مزید چار سال سات ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت کو وکیل محفوظ نذقی نے بتایا کہ ان کے مؤکل سوہن سنگھ نے، جو زیادتی کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ تھے، جیل میں کل 11 سال 7 ماہ گزارے، حالاں کہ ان کی سزا صرف 7 سال تھی اور کچھ عرصہ وہ ضمانت پر بھی تھے۔
عدالت نے مدھیہ پردیش حکومت سے اس سنگین کوتاہی پر جواب طلب کیا اور کہا کہ ’’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اتنی سنگین غفلت کیسے ہوئی اور قیدی مکمل سزا کاٹنے کے بعد بھی مزید کئی سال جیل میں کیوں رہا۔‘‘ عدالت نے ریاستی وکیل کی جانب سے پیش کردہ ’’گمراہ کن حلف ناموں‘‘ پر بھی سوالات اٹھائے اور معاملے میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف 25 لاکھ روپے معاوضہ منظور کیا بلکہ مدھیہ پردیش لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ ایسے دیگر قیدیوں کی نشان دہی کرے جو اسی قسم کی زیادتی کا شکار ہوئے ہوں۔
واضح رہے کہ 22 اگست کو عدالت نے ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی تھی اور سماعت کے لیے 8 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ سوہن سنگھ کو مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کے ایک سیشن عدالت نے عصمت دری سمیت دیگر دفعات کے تحت سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ان کی اپیل پر سزا کو عمر قید سے کم کر کے 7 سال کر دیا تھا، تاہم اس کے باوجود وہ 6 جون 2025 تک قید میں رہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے واقعات مجرمانہ انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سزا مکمل ہونے کے بعد قیدیوں کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…