سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ بہار میں SIR کے دوران ووٹرز کی شناخت کے لیے آدھار کارڈ کو بارہویں تسلیم شدہ دستاویز کے طور پر قبول کرے۔ اس فیصلے کے مطابق آدھار کو دیگر گیارہ تسلیم شدہ دستاویزات کی طرح ووٹر کے شناختی ثبوت کے طور پر جمع کرایا جا سکتا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا بگچی پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ آدھار شہریت کا ثبوت نہیں ہوگا اور الیکشن کمیشن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جمع کرائے گئے آدھار کارڈ کے نمبر کی صداقت کی جانچ کرے۔
جلد از جلد ہدایات جاری کرے کمیشن: سپریم کورٹ
بنچ نے زور دیا کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور صرف اصل شہریوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی، جب کہ جعلی دستاویزات پر دعویٰ کرنے والوں کو انتخابی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ آدھار کو شناختی دستاویز کے طور پر قبول کرنے کے لیے ضروری ہدایات جلد از جلد جاری کرے۔
دریں الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل راکیش دیویدی نے بتایا کہ ڈرافٹ انتخابی فہرست میں شامل 7.24 کروڑ میں سے 99.6 فیصد ووٹروں نے پہلے ہی شناختی دستاویزات جمع کرا دی ہیں، لہٰذا آدھار کو بارہویں دستاویز کے طور پر شامل کرنے سے عملی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم بنچ نے آدھار ایکٹ 2016 اور نمائندگیِ عوامی ایکٹ کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ آدھار شہریت کا ثبوت نہیں مگر شناخت کے لیے قابل قبول دستاویز ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 1 ستمبر کو سماعت کے دوران سیاسی جماعتوں کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیہار کی انتخابی فہرست میں اعتراضات اور دعوے 1 ستمبر کے بعد بھی دائر کیے جا سکتے ہیں، مگر انھیں حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد زیر غور لایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
گورنر سنتوش گنگوار نے کہا کہ تیر اندازی یکسوئی اور درست نشانے کا کھیل ہے۔…
پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں 26 اکتوبر کو IVY بھوجپوری میوزک ایوارڈز 2026 کا انعقاد…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…