قومی

Supreme Court on Ali Khan Mahmudabad: پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف ’آپریشن سندور‘ پر بیان کے معاملے میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، چارج شیٹ پر مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے سے روک دیا

نئی دہلی — سپریم کورٹ نے پیر کو ایک عبوری حکم میں ہریانہ کے اشوکا یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسرعلی خان محمودآباد کے خلاف درج ایک ایف آئی آر میں دائر چارج شیٹ پر مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔ یہ ایف آئی آر ان کے سوشل میڈیا پوسٹس میں ’آپریشن سندور‘ سے متعلق تبصروں پر درج کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ مجسٹریٹ تفتیش کو’’غلط سمت میں‘‘ کیوں لے جارہے ہیں۔

مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے سے روک دیا

جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوائے مالا باگچی پر مشتمل بنچ کا یہ حکم اس وقت آیا جب ہریانہ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ محمودآباد کے خلاف ایک ایف آئی آر میں کلوزر رپورٹ داخل کر دی گئی ہے اور دوسری ایف آئی آر میں چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے وہ ایف آئی آر منسوخ کر دی جس میں کلوزر رپورٹ داخل کی گئی تھی، جبکہ دوسری ایف آئی آر میں مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔

کپل سبل کا چارج شیٹ پراعتراض

علی خان محمودآباد کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے ایک ایف آئی آر میں دائر چارج شیٹ پر اعتراض جتایا۔ گزشتہ سماعت میں عدالت عظمیٰ نے دونوں ایف آئی آرز کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی ہریانہ پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) سے سوال کیا تھا کہ وہ صرف دو سوشل میڈیا پوسٹس کی تفتیش تک محدود رہنے کے بجائے اس کے دائرہ کار کو کیوں بڑھا رہی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ایس آئی ٹی نے محمودآباد کے الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے ہیں اور گزشتہ دس سال کے غیر ملکی دوروں کے بارے میں سوالات کر رہی ہے۔

عبوری ضمانت اور ایف آئی کی منسوخی کا معاملہ

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے محمودآباد کو عبوری ضمانت دے دی تھی لیکن یہ کہتے ہوئے کہ تفتیش روکنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہریانہ پولیس کی جانب سے درج دو ایف آئی آرز کو منسوخ کرنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم بنچ نے انہیں عبوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔  واضح رہے کہ علی خان محمودآباد نے اپنی گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہیں ہریانہ پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج ہونے کے بعد دہلی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ ان پر بھارت کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سمیت کئی الزامات عائد کیے گئے تھے، جو ’آپریشن سندور‘ پر ان کے تبصروں سے جڑے ہوئے تھے۔

خواتین افسران پر مبینہ تنقید کا الزام

ریاستی خواتین کمیشن نے محمودآباد کے سوشل میڈیا بیانات کو بھارتی مسلح افواج کی خواتین افسران کے لیے توہین آمیز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بیانات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ 13 مئی کو بھاٹیا نے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو طلبی کا نوٹس (سمن) بھیجا تھا۔ جبکہ علی خان محمودآباد نے وضاحت دی تھی کہ ان کے بیانات کو مکمل طور پر غلط سمجھا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

SP Ankita Sharma Police HQ Notice: ایس پی انکیتا شرما کو پولیس ہیڈکوارٹر کا نوٹس، ہوائی فائرنگ کا ویڈیو وائرل ہونے پر طلب کیا جواب

چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں کی ایس پی انکیتا شرما کا وجے دشمی کے موقع پر…

34 minutes ago

Epstein File Controversy: ایپسٹین معاملے پر گرمائی سیاست، نوجوان کانگریس کا دہلی میں احتجاج، ہردیپ پوری کے استعفے کا مطالبہ

نوجوان کانگریس نے مرکزی حکومت پر لگائے سنگین الزامات، ادے بھانو چب کی قیادت میں…

46 minutes ago

Bismillah Posters Controversy: فرانس میں ’بسم اللہ‘ والے پوسٹروں پر کیوں مچا ہنگامہ؟ طلبہ کے احتجاج کی سامنے آئی الگ کہانی

فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ’بسم اللہ‘ لکھے پوسٹروں نے سیاسی اور سوشل…

1 hour ago