نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو مغربی بنگال حکومت کو او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کی فہرست سے 77 برادریوں کو خارج کیے جانے کے خلاف دائر اپنی اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی۔ ان برادریوں میں 75 مسلم برادریاں بھی شامل تھیں، جنہیں ریاستی حکومت نے او بی سی زمرے میں شامل کیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے اپیل واپس لینے کی اجازت دی۔ سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال کی کابینہ نے اپیل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہائی کورٹ نے 2024 میں دیا تھا اہم فیصلہ
اس سے قبل اس وقت کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے 22 مئی 2024 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے 2010 سے 2012 کے درمیان جاری کیے گئے ریاستی احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے 77 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا غیر قانونی اور غیر آئینی
کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 77 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کا عمل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا تھا کہ ان برادریوں کی درجہ بندی میں مذہب ہی بنیادی معیار دکھائی دیتا ہے۔
’ووٹ بینک کی سیاست‘ کا بھی ذکر
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص برادری کو انتخابی فائدے کے لیے ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جس کی بنیاد پر او بی سی فہرست میں شمولیت دی گئی۔
ریاستی اسمبلی نے نئے ترمیمی بل بھی منظور کیے
ادھر حال ہی میں مغربی بنگال اسمبلی نے او بی سی ریزرویشن سے متعلق دو ترمیمی بل بھی منظور کیے ہیں، جن کے ذریعے سابقہ قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔ یہ قوانین ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کے نظام سے متعلق ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…
یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…
اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…
اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میچ میں موقع نہ ملنے کے درمیان 15…
ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ…