قومی

Iran Strongly Opposes UK’s Decision Regarding IRGC: آئی آر جی سی کے بارے میں برطانیہ کے فیصلے پر ایران کا سخت احتجاج، جوابی کارروائی کی دی وارننگ

نئی دہلی: ایران کی وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے، جس میں اس نے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) کو مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ تہران اس اقدام کے جواب میں اسی نوعیت کی کارروائی کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے اور اس فیصلے کے تمام نتائج کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوگی۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’ایران برطانیہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے، جس کے تحت اس نے ایران کے محافظانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ایران مخالف اس فیصلے کی بنیاد بے بنیاد سکیورٹی الزامات پر رکھی گئی ہے، جبکہ خود برطانیہ دہشت گرد اور پرتشدد نیٹ ورکس اور گروہوں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتا ہے۔‘‘

ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کے اس اقدام کو دشمنی پر مبنی، غلط اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق آئی آر جی سی ایران کی سرکاری مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے، جو فوج کے ساتھ مل کر ملک کی سرحدوں، قومی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کے دفاع اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں آئی آر جی سی کا کردار سب پر واضح ہے، خصوصاً داعش (آئی ایس آئی ایس) جیسے دہشت گرد تنظیم کے خلاف اس کی کارروائیوں کے باعث۔

برطانیہ پر مداخلت کا الزام

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ برطانیہ کو دوسرے ممالک پر الزامات لگانے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔ ایران کے مطابق برطانیہ کا دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص مغربی ایشیا کے داخلی معاملات میں مداخلت کا طویل ریکارڈ رہا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں میں بھی برطانیہ کے تعاون کا الزام عائد کیا گیا۔

یواین چارٹر کے تحت جواب دینے کا حق

ایران نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسے اس فیصلے کے جواب میں مساوی کارروائی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایران مخالف اس اقدام کے تمام سیاسی، قانونی اور سفارتی نتائج کی مکمل ذمہ داری برطانوی حکومت پر ہوگی۔

برطانیہ کی نئی قانونی کارروائی شروع

برطانوی حکومت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) اور دو دیگر تنظیموں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کے عمل کا آغاز کر رہی ہے۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو ان تنظیموں کی برطانیہ سے متعلق سرگرمیوں میں مدد دینا، ان کی حمایت کرنا یا جان بوجھ کر ان سے کسی بھی قسم کا مالی یا دوسرا فائدہ حاصل کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔ بعض معاملات میں اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔

برطانیہ پہلے ہی پورے آئی آر جی سی پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، تاہم نئی قانونی شق دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت کسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے نظام سے مختلف ہے۔ اس معاملے پر اب تک تینوں متعلقہ تنظیموں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

3 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

3 hours ago