قومی

Clean Fuel in India: صاف ایندھن کی دوڑ میں بھارت نہیں ہے تنہا، ای-20 اپنا چکے ہیں دنیا کے کئی ممالک، ای-20 پروگرام عالمی سطح پر بائیو ایتھانول کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حصہ

نئی دہلی: ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سے پٹرول میں 20 فیصد ایتھانول کی ملاوٹ (ای-20) کو لے کر کافی بحث جاری ہے۔ حکومت کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، تاہم عالمی منظرنامہ اس سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اس سمت میں اکیلا نہیں بلکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور بڑی معیشت رکھنے والے ممالک پہلے ہی پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ، توانائی کی سلامتی کو مضبوط اور درآمدی خام تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔

بھارت کا ای-20 پروگرام عالمی رجحان کا حصہ

’گلوبل بائیو ایتھانول بلینڈنگ پالیسیز میپ‘ اور مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں کمی اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے بایو ایتھانول کی ملاوٹ میں تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت ای-20 مرحلے تک پہنچ چکا ہے اور حکومت نے 2030 تک ای-30 نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک صاف توانائی کے عالمی مشن میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بایو ایتھانول کے استعمال کے معاملے میں برازیل دنیا کا نمایاں ترین ملک ہے، جہاں ای-30 کے ساتھ ساتھ ای-100 (سو فیصد ایتھانول) بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پیراگوئے ای-30 پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جبکہ بولیویا نے ای-25 کا ہدف مقرر کیا ہے۔

امریکہ، یورپ اور ایشیا میں بھی ایتھانول ملاوٹ میں اضافہ

امریکہ میں اس وقت ای-10 اور ای-15 پٹرول دستیاب ہے۔ یورپی یونین کے 19 رکن ممالک ای-10 استعمال کر رہے ہیں، جبکہ برطانیہ نے بھی ای-10 نافذ کر رکھا ہے۔ فن لینڈ نے 2027 تک ای-22.5 کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایشیا میں بھارت کے علاوہ نیپال ای-10، تھائی لینڈ لازمی طور پر ای-10 اور متبادل طور پر ای-20 اور ای-85، ویتنام ای-10 اور ای-5، فلپائن لازمی ای-10 کے ساتھ ای-20 پر غور کر رہا ہے، جبکہ جاپان نے 2030 تک ای-10 اور 2040 تک ای-20 نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

کینیڈا، لاطینی امریکہ اور افریقہ بھی شامل

کینیڈا میں مختلف صوبوں میں مختلف سطح کی ایتھانول ملاوٹ رائج ہے، جہاں وفاقی سطح پر ای-5 نافذ ہے، جبکہ اونٹاریو، کیوبیک، مانیٹوبا اور دیگر صوبوں میں ای-7.5 سے ای-12 تک مختلف معیار اختیار کیے گئے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ارجنٹینا ای-12، یوراگوئے ای-10، کولمبیا ای-10، ایکواڈور ای-10، پیرو ای-7.8، جبکہ کوسٹا ریکا، پاناما اور گوئٹے مالا آئندہ چند برسوں میں ای-10 نافذ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افریقہ میں بھی یوگنڈا، زمبابوے، جنوبی افریقہ، نائجیریا، انگولا، ملاوی، موزمبیق اور مصر جیسے ممالک مختلف سطحوں پر ایتھانول ملاوٹ کی پالیسیاں نافذ کر رہے ہیں یا مستقبل کے اہداف مقرر کر چکے ہیں۔

توانائی کی خود کفالت اور ماحولیات کے تحفظ پر زور

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ بڑھا کر خام تیل پر انحصار کم کرنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت بھی ای-20 کے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد 2030 تک ای-30 کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک بھی آنے والے برسوں میں اپنے ایتھانول بلینڈنگ پروگرام کو مزید وسعت دینے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

2 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

2 hours ago