قومی

Data Centers In India: بھارت میں تیزی سے روزگار کا بڑا ذریعہ بنے گی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری، 2030 تک ایک لاکھ انجینئروں کی ہوگی ضرورت

نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت میں تیزی سے فروغ پاتی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری آئندہ برسوں میں روزگار پیدا کرنے والے سب سے بڑے شعبوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ سال 2030 تک اس شعبے میں تقریباً ایک لاکھ ہنرمند پیشہ ور افراد، خصوصاً انجینئروں، کی ضرورت ہوگی۔ این ایل بی سروسز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی نصب شدہ ڈیٹا سینٹر صلاحیت موجودہ تقریباً 1.5 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2030 تک 6.5 گیگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ملک کی ڈیٹا سینٹر مارکیٹ کی مالیت 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شعبے میں اب تک 126 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث ڈیٹا سینٹر انڈسٹری ملک کے تیزی سے ترقی کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں شامل ہو گئی ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کے لیے نوجوانوں کے لیے سنہری موقع

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تعلیمی ادارے، صنعت اور پالیسی ساز مل کر مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار نہیں کرتے تو مہارتوں کی کمی (اسکل گیپ) اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ این ایل بی سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سچن الوگ نے کہا کہ بھارت میں ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع صرف انفراسٹرکچر کی ترقی نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے قومی تعمیر میں حصہ لینے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی کے نتیجے میں اے آئی انفراسٹرکچر، کلاؤڈ آپریشنز، آٹومیشن، پاور سسٹمز اور کریٹیکل فیسلٹی مینجمنٹ جیسے شعبوں میں ماہرین کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اے آئی سے وابستہ نئی ملازمتوں کی مانگ میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باعث اے آئی انفراسٹرکچر انجینئرنگ، کلاؤڈ آپریشنز، پلیٹ فارم انجینئرنگ، ڈیو اوپس (DevOps)، ایم ایل اوپس (MLOps) اور ڈیٹا سینٹر آٹومیشن جیسے شعبوں میں ماہر پیشہ ور افراد کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اے آئی پر مبنی ورک لوڈز بھارت کی مجموعی ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا تقریباً 30 فیصد حصہ بن جائیں گے، جس کے باعث انجینئروں کے لیے اے آئی انفراسٹرکچر کی سمجھ ایک بنیادی مہارت بن جائے گی۔

نئی مہارتوں اور خصوصی عہدوں کی ضرورت

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ فزیکل انفراسٹرکچر میں بھی کئی نئی تخصصی ذمہ داریوں کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے۔ ان میں اے آئی انفراسٹرکچر آپریشنز انجینئر، لیکوئڈ کولنگ انجینئر، انرجی آپٹیمائزیشن اسپیشلسٹ، کریٹیکل فیسلٹیز انجینئر اور پاور سسٹم ایکسپرٹ جیسے عہدے نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگلی نسل کے اے آئی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے جدید کولنگ سسٹمز، بہتر توانائی کے انتظام اور اعلیٰ درجے کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوگی، جس کے نتیجے میں ان شعبوں میں ماہرین کی طلب مزید تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi’s road show: بھونیشور میں پی ایم مودی کے روڈ شو کو لے کر جوش و خروش، اوڈیشہ کے لوگوں نے کہا- ریاست کی ترقی کو ملے گی نئی رفتار

وزیر اعظم نریندر مودی کے اوڈیشہ دورے کے دوران بھونیشور میں جشن کا ماحول رہا۔…

7 hours ago

Damodardas Mulchand Modi Biography: کھڑگے کے متنازع بیان کے بعد سرخیوں میں وزیر اعظم مودی کے والد، جانیں کون تھے دامودر داس مول چند مودی؟

سیاسی بیان بازی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے آنجہانی والد دامودر داس مول…

8 hours ago

PV Sindhu: پی وی سندھو کا بی ڈبلیو ایف فرنچ اوپن کا خطاب جیتنے کا خواب ادھورا، فائنل میں این سی ینگ نے ماری بازی

ہندوستان کی اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کو سپر 750 ٹورنامنٹ کے فائنل میں…

9 hours ago