قومی

Sambhal Jama Masjid Permission Granted for Whitewashing: سنبھل جامع مسجد کی باہری دیواروں پرپینٹنگ کی ملی اجازت، ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو دی ہدایت

اترپردیش کے سنبھل کی جامع مسجد میں رنگ وروغن (پینٹنگ) کرانے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کے روزسماعت کی ہے اوراپنا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے باہری دیواروں پرپینٹنگ کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ مسجد کمیٹی نے پینٹنگ کی اجازت کے لئے نظرثانی کی عرضی داخل کی تھی۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف ان کے درخواست کا نمٹارہ کیا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس روہت رنجن اگروال نے اے ایس آئی کے وکیل ایڈوکیٹ منوج کمارسنگھ سے پوچھا کہ آپ کی رپورٹ کیا ہے؟ ایڈوکیٹ منوج کمار نے کہا کہ مسجد کمیٹی نے کئی سالوں تک پینٹنگ کرائی ہے، جس کے سبب مسجد کی باہری دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔ جسٹس اگروال نے کہا کہ آپ اتنے سال سے کیا کررہے تھے؟ اے ایس آئی نے کہا کہ ہم نے ایف آئی آردرج کرائی ہے۔ جسٹس اگروال نے کہا کہ آپ 2010 میں کہاں تھے، 2020 میں کہاں تھے؟ آپ لوگ 25-2024 میں ہی اٹھے ہیں۔ آپ نے کہا کہ کئی سالوں سے مسجد کمیٹی پینٹنگ کراتی آرہی ہے۔

ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو لگائی پھٹکار

جسٹس روہت رنجن اگروال نے اے ایس آئی سے کہا کہ آپ حکومت کے اشارے پرکام کررہے ہیں۔ بار بار ہم پرمٹ کررہے ہیں پھر بھی آپ اپنی ڈیوٹی نبھانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ میں انہیں صرف باہری دیواروں پر سفیدی کرنے کی اجازت دے رہا ہوں۔ صرف ان کی درخواست کا نمٹارہ کررہا ہوں۔ جسٹس اگروال نے وکیل وشنوشنکر جین سے کہا کہ ہوا میں بحث نہیں ہوتی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل یہاں ہیں، ان سے کہئے کہ مسجد کمیٹی کو نوٹس دیں (1927 کا سمجھوتہ منسوخ ہوگیا ہے)۔ سمجھوتے کے تحت گزشتہ حکومت کی تمام ذمہ داری اب اس حکومت پر ہیں۔ انہون نے کہا کہ اے ایس آئی کا کہنا ہے کہ مسجد کمیٹی نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اے ایس آئی اور ریاست کے وکیل دونوں ہی اس معاملے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کوئی نوٹس نہیں دیا ہے کہ مسجد کمیٹی نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگرکوئی معاہدہ نہیں ہے تو سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تو اے ایس آئی کو نوٹس بھیجنا چاہئے۔ جسٹس اگروال نے اے ایس آئی کے وکیل سے کہا کہ آپ کا افسر خود شکایت دینے سے ڈررہا ہے۔ اس کو الگ رہا ہے کہ آج بولیں گے، کل یہ حکومت نہیں رہے گی تو پھنس جائیں گے۔ آپ پینٹنگ کرائیں۔

گزشتہ سماعت میں عدالت نے کیا کہا؟

گزشتہ 10 مارچ کو ہوئی سماعت کے دوران اے ایس آئی سے ہائی کورٹ نے حلف نامہ مانگا تھا۔ ہائی کورٹ نے اے ایس آئی سے پوچھا تھا کہ مسجد کی پینٹنگ، اضافی لائٹنگ اور باہر سے سجاوٹی لائٹ لگانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ گزشتہ سماعت میں اے ایس آئی کی رپورٹ پر مسجد کمیٹی کی طرف سے داخل کئے گئے اعتراض پراے ایس آئی نے اپنا جواب داخل کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے پینٹنگ، اضافی لائیٹنگ اورعمارت کے اندرسجاوٹی لائٹ لگانے کے مطالبہ پر اے ایس آئی سے حلف نامہ مانگا تھا۔ عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر پینٹنگ، اضافی روشنی اور سجاوٹی لائیٹیں لگانے کے لئے ڈھانچے کے مزید معائنہ کی ضرورت ہے، تواے ایس آئی اپنی ٹیم بھیج سکتی ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بنچ کررہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Jesus De Miguel Dies: فٹ بال میدان میں ٹکر کے بعد جیسوس ڈی میگوئل کا انتقال، یوئیفا نے کیا اظہارِ تعزیت

یورپی فٹ بال کی اعلیٰ ترین تنظیم یوئیفا نے منگل کے روز سی ڈی ٹینیریفے…

3 hours ago

Ujjwala Scheme: دیوالی پر وزیر اعظم مودی نے مفت گیس سلنڈر کا تحفہ دیا: اجولا یوجنا کی مستحق خواتین

اتر پردیش کے مرادآباد میں اجولا یوجنا کی مستحق خواتین نے منگل کے روز مفت…

4 hours ago

police Complaint against AISA President Neha Bora: نیہا بورا کی مشکلات میں اضافہ، پجاریوں پر دیئے بیان کی وجہ سے پولیس میں شکایت

مندر کے پجاریوں پرخواتین کے ساتھ زیادتی سے متعلق مبینہ بیان کی وجہ سے تنازعہ…

4 hours ago