قومی

Rajya Sabha Election 2024: سماجوادی پارٹی مسلمانوں سے بنانا چاہتی ہے دوری؟ راجیہ سبھا الیکشن میں ایک بھی مسلم امیدوار کو نہیں دیا ٹکٹ

Rajya Sabha Election 2024: راجیہ سبھا الیکشن میں سماجوادی پارٹی نے اترپردیش میں اپنے تین امیدواروں کے نام کا اعلان کردیا۔ سماجوادی پارٹی نے رام جی لال سمن، جیا بچن اور آلوک رنجن کو امیدوار بنایا ہے۔ اس فہرست کے سامنے آنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے لیڈران میں ہی بغاوت ہونے لگی ہے۔ ایک طرف سوامی پرساد موریہ نے جنرل سکریٹری عہدے سے استعفیٰ دے دیا تو وہیں دوسری طرف رکن اسمبلی پلوی پٹیل نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پلوی پٹیل تو اس قدر ناراض ہیں کہ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ سماجوادی پارٹی پرپی ڈی اے کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سماجوادی پارٹی مسلمانوں کی حامی ہونے سے باہر نکلنا چاہتی ہے؟

اترپردیش میں 20 فیصدی مسلم رائے ہیں۔ اس وقت 58 فیصد مسلم رائے دہندگان سماجوادی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ مسلم ووٹوں کے سہارے یوپی میں ملائم سنگھ یادو سے لے کراکھلیش یادو تک وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی مسلم اوریادو ووٹوں کے ذریعہ لمبے وقت سے سیاست کرتی رہی ہے اوراس کے سہارے اقتدار پرقابض بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن 2014 کے بعد سے سیاسی حالات بدل گئے ہیں۔

مسلمانوں کے بغیرآگے بڑھنا چاہتے ہیں اکھلیش یادو

سماجوادی پارٹی کیا اب مسلمانوں کے بغیر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور ان کو حصہ داری سے محروم کرنا چاہتی ہے یا پھرمسلم پرست والی شبیہ سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اورسا بق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو ایم-وائی کے بجائے پی ڈی اے کے فارمولے (پسماندہ-دلت-اقلیت) پرکام کر رہی ہے۔ وہیں، اس طرح سے سماجوادی پارٹی نے راجیہ سبھا میں تین میں سے کسی بھی ایک مسلم امیدوار کو نہ اتار کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے بغیر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

آرایل ڈی اوراے آئی ایم آئی ایم نے سماجوادی پارٹی پراٹھایا سوال

حال ہی میں انڈیا الائنس چھوڑکراین ڈی اے کے ساتھ جانے والی راشٹریہ لوک دل (آرایل ڈی)  کے قومی ترجمان بھوپیندر چودھری نے کہا کہ تین راجیہ سبھا سیٹوں میں سے ایک پر مسلم امیدوارنہیں اتارا۔ سماجوادی پارٹی جیا بچن اور آلوک رنجن کو راجیہ سبھا بھیجے گی، لیکن ووٹ چاہئے پورا کا پورا مسلمانوں کا۔ اب اورزیادہ بولوں گا توکچھ لوگوں کے فرضی سیکولرازم کو ٹھیس پہنچ جائے گی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے یوپی کے صدرشوکت علی نے کہا کہ اکھلیش یادو کے پی ڈی اے میں کیا مسلمان اورپسماندہ بھی آتا ہے؟ سماجوادی پارٹی نے جس طرح سے راجیہ سبھا کا ٹکٹ دیا ہے، اسے دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ اب اکھلیش یادو کو اقلیتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اکھلیش یادو کے پی ڈی اے کا مطلب اقلیت نہیں بلکہ اعلیٰ ذات ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

57 minutes ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

1 hour ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

2 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

2 hours ago