نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغِ اردوزبان اورانڈیا اسلامک کلچرل سینٹرکے اشتراک سے کونسل سے شائع شدہ کتاب ‘سوانح عمری حاجی سمیع اللہ خان بہادرسی ایم جی ‘ کے اجرا ومذاکرے کی تقریب کانفرنس ہال، آئی آئی سی سی میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے اسلامک کلچرل سینٹرکے صدرسلمان خورشید نے کہا کہ حاجی محمد سمیع اللہ خان بہادرکی سوانح عمری کا مطالعہ اُس دور کے حالات، ماحول اورتہذیب وتمدن کوسمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس طرح کی نادرونایاب کتابوں کی اشاعت ناگزیرہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے استفادہ کرسکیں اورہندوستان کی اس زمانے کی صورتِ حال سے واقف ہوسکیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ حاجی محمد سمیع اللہ خان ایک عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ماہرقانون بھی تھے۔ آج کے زمانے میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے، جومختلف علوم پردسترس رکھتے ہوں۔
حاجی سمیع اللہ خان بہادرایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک: ڈاکٹرشمس اقبال
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے کہا کہ حاجی سمیع اللہ خان بہادرایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ماہرقانون ہونے کے ساتھ مختلف علوم وفنون میں بھی درک رکھتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سمیع اللہ خان سرسید اورعلی گڑھ تحریک کے اہم معاونین میں تھے، بلکہ اے ایم یوتحریک کے لیے ان کی شخصیت بنیاد کے پتھرکی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی شخصیت قومی ہمدردی وفکرمندی کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل تھی، ضرورت ہے کہ نئی نسل ایسی شخصیات کی زندگیوں کومشعلِ راہ بنائے تبھی وہ قوم وملک کی تعمیرمیں مطلوبہ کردارادا کرسکتی ہے۔ ڈاکٹرشمس اقبال نے کہا کہ جدید موضوعات پر کتابیں شائع کرنے کے ساتھ کلاسیکی کتابوں کی اشاعت بھی کونسل کے اشاعتی مینڈیٹ میں شامل ہے، جس کے تحت یہ بے مثال سوانح عمری شائع کی گئی ہے اورآئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اے ایم یو کے قیام میں مولانا سمیع اللہ خان کا بھی نمایاں کردار: نجیب جنگ
مہمانِ خصوصی نجیب جنگ (سابق لیفٹیننٹ گورنر، دہلی) نے اپنے خطاب میں حاجی محمد سمیع اللہ خان کے خاندانی پس منظراورعلمی کمالات پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد سمیع اللہ خان کی سوانح عمری بے حد اہم ہے اوراس کا انگریزی ترجمہ بھی ہونا چاہئے تاکہ غیراردوداں طبقہ بھی ان کی شخصیت اوراس دورکے ہندوستان سے بخوبی واقف ہوسکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ علی گڑھ کا علمی وتہذیبی کنٹری بیوشن پوری دنیا میں معروف ہے اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں سرسید کے ساتھ مولانا سمیع اللہ خان کا بھی نمایاں کرداررہا ہے، اس لیے ان کا نام اورکام ہمیشہ باقی رہے گا۔
اہل علم اوردانشوران کا اظہارخیال
کتاب پر اظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی (شعبہ ماس کمیونی کیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہا کہ مولوی سمیع اللہ کی شخصیت ہشت پہلوتھی۔ اس زمانے کے حالات کوسمجھنے کے لیے یہ کتاب نہایت اہم ہے اوراس کے مطالعہ سے کئی نئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔ معروف دانشورایڈووکیٹ خلیل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا سمیع اللہ خان کی شخصیت پردفترکے دفترلکھے جاسکتے ہیں۔ وہ نہایت فصیح اورٹکسالی عربی بولتے تھے اوربحیثیت جج ان کے فیصلے بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس عظیم اورمقتدرشخصیت کی سوانح عمری کا مطالعہ ہم سب کوضرورکرنا چاہئے تاکہ ہم ان کی علمی وشخصی عظمت سے روشناس ہوسکیں۔
کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرخواجہ محمد شاہد (سابق پرووائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی، حیدرآباد) نے کہا کہ اس کتاب کی اہمیت دوہری ہے۔ ایک تویہ کہ جس شخصیت پرکتاب لکھی گئی ہے وہ خود بے حد اہم اورمعروف ہے اوردوسرے یہ کہ اس کتاب کے مصنف بھی تعارف کے محتاج نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کتاب کے دوحصے ہیں: پہلے حصے میں مولانا کی حیات وشخصیت بیان کی گئی ہے اوردوسرے حصے میں ان کی تقاریرشامل ہیں۔ ان کے مطابق اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مطالعہ سے اُس زمانے کی دہلی اوراس کی تہذیب کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اس موقع پربڑی تعداد میں اہلِ علم اوردانشوران موجود رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…
برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…
افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…
اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…
اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…
مدھیہ پردیش کے اندور میں گائے چوری کے شبہ میں ایک نوجوان چندر لوہار کے…