قومی

Ruckus over SIR: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں SIR پر ہنگامہ، اپوزیشن کا ووٹر لسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بہار کی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (SIR) پر ہنگامہ جاری ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر حکومت کو مسلسل گھیر رہی ہے۔ اس دوران کانگریس کے راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن نے ایس آئی آر کو لے کر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ووٹ کم کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی رنجیت رنجن نے آئی اے این ایس کو بتایا، ’’بہار میں اس وقت ووٹوں کو گھٹانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 50 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹانے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ 18 لاکھ لوگ مردہ پائے گئے ہیں اور 7 لاکھ لوگوں کے دوہرے نام تھے۔ اس کے علاوہ 26 لاکھ لوگ بہار سے باہر ہیں، اس کے باوجود زمین پہر لوگوں سے ریسیونگ بھی نہیں لی گئی ہے، یہ بہت بڑا گھپلا ہے۔ بہار میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے اور من مانے طریقے سے لاکھوں لوگوں کے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے اور پوری اپوزیشن اس کو برداشت نہیں کرے گی اور جب تک الیکشن کمیشن ووٹروں کا حق انہیں واپس نہیں دے گا، ہمارا مظاہرہ تب تک جاری رہے گا۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایس آئی آر کے معاملے پر کہا، ’’جس طرح سے ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم رکھا جا رہا ہے وہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر میں درست ووٹر شناختی کارڈ کے طور پر قبول شدہ دستاویزات کو شامل کرنے کو کہا تھا۔ حالانکہ، انہوں نے کہا کہ اگر یہ دستاویزات شہریت اہل نہیں ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ اگر یہ دستاویزات شہریت کے لیے اہل نہیں ہیں تو کیا یہ لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کے لیے ہیں؟ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ وہ بہار کے اس ماڈل کو آسام اور مغربی بنگال میں بھی نافذ کریں گے۔‘‘

جے ڈی یو ایم پی سنجے کمار جھا نے کیا کہا؟

جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ سنجے کمار جھا نے بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (SIR) پر اپوزیشن کے احتجاج کو نشانہ بنایا۔ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بہار میں الیکشن کمیشن صحیح کام کر رہا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اگر کسی کی موت ہو گئی ہے تو کیا اس کا ووٹ دھوکہ دہی سے ڈالا جانا چاہئے؟ اگر کسی شخص کا نام دو جگہوں پر درج ہے تو کیا وہ دونوں جگہوں پر ووٹ ڈال سکتا ہے؟ اس لیے الیکشن کمیشن نے بہت صحیح کام کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کل تک 98 فیصد ووٹرز نے درخواستیں دی ہیں۔ اس سروے کا مقصد بوگس ووٹرز کو فہرست سے نکالنا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago