قومی

Jamia Millia Islamia: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس سے متعلق پروگرام کے خلاف طلبہ کا بڑے پیمانے پر احتجاج، کیمپس کے باہر بھاری پولیس تعینات

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کی معروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منگل کے روز اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے منسلک ایک پروگرام کے خلاف طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ کیمپس کے باہر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے دہلی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ اہم داخلی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی قیادت اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کر رہی تھی، جنہوں نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ اس پروگرام کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ایک مرکزی یونیورسٹی میں اس نوعیت کے پروگرام کا انعقاد ’’نامناسب‘‘ ہے اور اس سے کیمپس کے ماحول پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

’یووا کمبھ‘ پروگرام کیا ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پروگرام ’یووا کمبھ‘ کا حصہ ہے، جو آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تقریب یونیورسٹی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں رکھی گئی ہے، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ’یووا کمبھ‘ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ’’سیکھنے، قیادت کرنے اور خدمت کرنے‘‘ کے لیے متحد کرنا ہے، اور اسے آر ایس ایس کی ایک صدی کی خدمات کے جشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

پروگرام کی اجازت ’براہ راست اشتعال انگیزی‘

ایس ایف آئی نے اپنے بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی اجازت دینا ’’براہِ راست اشتعال انگیزی‘‘ ہے۔ طلبہ تنظیم نے خاص طور پر اقلیتی طلبہ کی سلامتی اور وقار پر خدشات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اس پروگرام کی اجازت فوری طور پر واپس لی جائے۔ ایک طالب علم لیڈر کے مطابق اس نوعیت کے پروگرام پہلے بھی دہلی کی دیگر جامعات میں منعقد ہوئے ہیں، جہاں ان کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے یونیورسٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی فورس تعینات کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انتظامیہ کی خاموشی پر سوال؟

اس معاملے پر ابھی تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’یووا کمبھ‘ پروگرام کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع تعلیمی اداروں میں سیاسی و نظریاتی سرگرمیوں کے دائرہ کار پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر رہا ہے۔ آئندہ دنوں میں انتظامیہ کے ردعمل اور طلبہ کے احتجاج کی سمت اس معاملے کی نوعیت طے کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

3 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

46 minutes ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

1 hour ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago