راؤز ایونیو کورٹ نے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سندیپ دکشت کی طرف سے دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کے خلاف دائر ہتک عزت کی شکایت میں سمن جاری کرنے کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دونوں کو طلب کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے عدالت اپنا فیصلہ 3 اپریل کو سنائے گی۔
کیا ہے معاملہ؟
سندیپ دکشت کی ہتک عزت کی شکایت 26 دسمبر کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے متعلق ہے، جہاں آتشی اور سنجے سنگھ دونوں نے مبینہ طور پر ان کے اور کانگریس پارٹی کے بارے میں ہتک آمیز بیانات دیے تھے۔ دکشت کے مطابق ان دونوں سیاسی لیڈران نے ان پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو شکست دینے کے لیے بی جے پی سے کروڑوں روپے لینے کا الزام لگایا تھا۔
آتشی اور سنجے سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ دکشت عام آدمی پارٹی کو کمزور کرنے کی سازش میں بی جے پی کے ساتھ شامل تھے۔ دکشت نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے اور انھیں جھوٹا قرار دیا ہے۔ دکشت نے الزامات کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں بی جے پی سے اتنی بڑی رقم ملتی تو وہ اسے جمنا کی صفائی اور دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ان کا استعمال کرتے۔
ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی دکشت کی درخواست
اس سے قبل اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے آتشی اور سنجے سنگھ کے خلاف ان کی ہتک عزت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اس معاملے میں دکشت نے ہتک آمیز بیانات کے لیے 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ طلب کیا تھا۔ تاہم عدالت کے سابقہ فیصلے کے باوجود وہ ان دونوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب عدالت 3 اپریل کو فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ ہتک عزت کے الزامات کے جواب میں آتشی اور سنجے سنگھ کو سمن جاری کرے گی یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…