پٹنہ: بہار اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں نئی حکومت کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے لالو پرساد یادو پر کی گئی تنقید کے جواب میں روہنی آچاریہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یادداشت پر سوال اور سوشل میڈیا حملہ
روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی یادداشت میں کوئی “کیمیکل لوچا” ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں سارن حلقے سے انتخاب لڑ چکی روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایک بار پھر ایوان میں متضاد باتیں کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے ایک طویل پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ایوان میں اعتماد کے ووٹ کی تجویز پر خطاب کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ انہیں بہار کی 14 کروڑ عوام کا آشیرواد حاصل ہے۔
بیانات میں تضاد کا الزام
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بہار میں 14 کروڑ ووٹرز ہیں؟ کیا این ڈی اے نے انتخاب سمراٹ چودھری کے نام اور چہرے پر لڑا تھا؟ انہوں نے مزید لکھا، ’’اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ اپنی عمر اور اپنی ڈگری کے بارے میں تو بات کرتے نظر آئے، لیکن اپنی عمر اور اپنی ڈگری کو درست ثابت کرنے اور اس کی تصدیق کے حق میں کوئی منطقی اور حقائق پر مبنی بات کہنے سے گریز کرتے دکھائی دیے۔‘‘
سیاسی بیان بازی اور تنقید
روہنی آچاریہ نے کہا کہ لالو یادو کے ذریعے جیل بھیجے جانے کی بچکانہ بات کرتے ہوئے، پروپگنڈے کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے والے سمراٹ چودھری یہ بھول گئے کہ خود بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ قانونی اور عدالتی عمل ضابطے اور قانون کے مطابق چلتا ہے، کسی کے اشارے پر نہیں۔
نتیش کمار اور سیاسی وعدوں کا ذکر
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ انہیں وزیر اعلیٰ بنانے میں نتیش کمار نے کردار ادا کیا، مگر یہ بتانا بھول گئے کہ انہوں نے ہی نتیش کمار کو ہٹانے کے لیے موریٹھا (پگڑی) باندھ کر عہد لیا تھا، لیکن عہد پورا کیے بغیر ہی موریٹھا کھول بھی لیا تھا۔ وزیر اعلیٰ اپنے خطاب میں اپنے اوپر ہو رہے ذاتی حملوں پر تلملاتے نظر آئے، مگر یہ بھول گئے کہ کیسے انہوں نے ایک بیٹی کی طرف سے اپنے والد کو کڈنی دیئے جانے پر بے حد ہی گھٹیا تبصرہ کیا تھا۔
اقتدار اور عوامی مینڈیٹ پر سوال
سی ایم سمراٹ چودھری کے ’اقتدار کسی کی جاگیر نہیں ہوتا‘ کہنے پر روہنی آچاریہ نے مزید لکھا کہ وزیر اعلیٰ کوئی نئی بات نہیں کر رہے، یہ جگ ظاہر ہے، عوام جسے چن کر بھیجتی ہے، وہی اقتدار میں قابض ہوتا ہے، مگر موجودہ وزیر اعلیٰ کو تو عوام نے چُنا ہی نہیں۔ وزیر اعلیٰ یہ بھول گئے کہ وہ وزیر اعلیٰ کا چہرہ تو تھے ہی نہیں، چہرہ تو کوئی اور تھا جسے سازش کے تحت بے بس اور لاچار کر کے ہٹا دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔