مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں منشیات کی اسمگلنگ اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہی بلکہ خواتین کی شمولیت بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ پولیس تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں خواتین بھی اس غیر قانونی دھندے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران پولیس نے تین خواتین کو ممنوعہ منشیات کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ جمعہ کی رات ایک تازہ کارروائی میں اندور کرائم برانچ نے دیواس۔اندور بائی پاس روڈ کے علاقے نپانیا سے ایک خاتون اسمگلر کو 8 کلو 313 گرام گانجے کے ساتھ گرفتار کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ خاتون اس سے قبل بھی 6 کلو گانجے کے کیس میں گرفتار ہو چکی تھی اور اس وقت عدالت سے ضمانت پر رہا تھی۔
پولیس کے مطابق خاتون کے قبضے سے گانجے کے علاوہ ایک آئی فون، ایک دو پہیہ گاڑی اور دیگر سامان بھی ضبط کیا گیا جس کی مجموعی مالیت تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین اب بڑے پیمانے پر منشیات کی ترسیل میں استعمال ہو رہی ہیں۔
خواتین اسمگلروں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں منشیات مافیا کے خلاف مسلسل سخت کارروائی کے باعث مرد اسمگلروں پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ ایسے میں منشیات نیٹ ورک اب خواتین کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ عام طور پر خواتین کی چیکنگ نسبتاً کم ہوتی ہے اور اسمگلروں کو بچ نکلنے کا موقع مل جاتا ہے۔
پولیس کی کارروائیاں جاری
ایڈیشنل ڈی سی پی کرائم برانچ راجیش دنڈوتیا کے مطابق خواتین کی جانب سے اسمگلنگ کے بڑھتے کیس ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے پیش نظر پولیس نے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور خفیہ نگرانی مسلسل جاری رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں…
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید…
عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…
اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…
سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…
وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…