نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امورکرن رجیجو نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس آج باضابطہ طورپرختم ہوگیا ہے۔ 28 جنوری سے شروع ہونے والا یہ اجلاس 18 اپریل تک جاری رہا اور حالیہ برسوں کے سب سے تاریخی اور نتیجہ خیز اجلاسوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس کی شروعات صدر کے خطاب سے ہوئی، جس پر دونوں ایوانوں میں شکریہ کی قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے یونین بجٹ پیش کیا، جسے تفصیلی بحث کے بعد کامیابی سے منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی فنانس بل بھی پارلیمنٹ سے پاس ہو گیا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم نے مغربی ایشیا میں جاری بحران پر دونوں ایوانوں میں اہم بیان دیا۔ پارلیمنٹ کے کام کاج کو مکمل کرنے کے لیے بجٹ اجلاس کو تین دن کے لیے بڑھایا بھی گیا۔
کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے، جسے ملک کے لیے بڑی کامیابی مانا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بجٹ اجلاس کئی اہم فیصلوں اور قومی مسائل پر بامعنی بحث کے لیے یاد رکھا جائے گا۔کیرن رجیجو نے کہا کہ سیاسی مفادات اور خواتین کو حقوق نہ دینے کی ذہنیت کے باعث کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور نہیں ہونے دیا، جس پر ہمیں شدید افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومت یا کسی ایک جماعت کا نقصان نہیں بلکہ ملک کی خواتین کا نقصان ہے۔ خواتین کو ملک کے نظم و نسق اور فیصلہ سازی میں مکمل شمولیت دینے کے لیے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی کا اہم قدم منظور نہ ہو سکا، جس سے ہم سب کو صدمہ پہنچا ہے۔مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ہم اسے اپنی حکومت یا پارٹی کی ناکامی نہیں مانتے، بلکہ اسے ملک کے لیے بڑا دھچکا سمجھتے ہیں جو کانگریس اور چند دیگر جماعتوں کی وجہ سے لگا ہے۔ آنے والے وقت میں انہیں خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خواتین مخالف ہونے کا جو داغ کانگریس پر لگا ہے، وہ آسانی سے مٹنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں دیکھا گیا کہ خواتین کو ان کے حقوق نہ دیے جائیں اور اسے کامیابی قرار دیا جائے۔ لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کو ریزرویشن دینا ہماری ترجیح ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے، لیکن کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی سوچ نے اس بل کو گرا دیا۔ اب بہانے بازی نہیں چلے گی، خواتین کو جو حق ملنا تھا اسے کانگریس اور اس کے ساتھیوں نے روک دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…