قومی

Research report on Babri Masjid verdict: بابری مسجد فیصلہ اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991 پر تحقیقی رپورٹ جاری، مولانا محمود مدنی نے کہا- یہ رپورٹ تاریخ کی ایک اہم دستاویزثابت ہوگی

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کا ذیلی ادارہ جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیزاورساؤتھ ایشین مائناریٹیزلائرایسوسی ایشن (ساملہ) کے اشتراک سے ڈپٹی اسپیکرہال، کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ایک اہم پروگرام منعقد ہوا، جس میں بابری مسجد فیصلے اورعبادت گاہ ایکٹ 1991  پرتحقیقی رپورٹ کا اجرا عمل میں آیا۔ پروگرام کی صدارت جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کی، جس میں ملک کے ممتازسینئروکلاء، ماہرین قانون، سابق جج صاحبان اوراسکالرس نے شرکت کی۔
جاری کردہ رپورٹ میں یہ مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ عبادت گاہ ایکٹ1991 بھارت کے سیکولرڈھانچے، مذہبی ہم آہنگی اورآئینی استحکام کے تحفظ کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل ہے تاکہ تاریخ کے جھگڑوں کوزندہ نہ کیا جاسکے۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں خصوصاً اسماعیل فاروقی مقدمہ (1994) اورایم صدیق (ایودھیا فیصلہ 2019) کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسماعیل فاروقی مقدمہ میں مسجد کو اسلام کا لازمی جزقرارنہ دینے والی تعبیرنے بعد کے مقدمات پرگہرے اثرات مرتب کیےہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایودھیا فیصلہ 2019 میں عدالت نے بابری مسجد کی شہادت کوغیر قانونی قراردینے کے باوجود متنازعہ زمین عقیدے کی بنیاد پرہندو فریق کے حوالے کردیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ عبادت گاہ ایکٹ1991 پرسختی سے عمل درآمد کیا جائے اورسیکولرازم ومذہبی مساوات کے اصولوں کومزید مستحکم کیا جائے۔

ہندوستانی مسلمانوں نے صبر، ذمہ داری اورآئینی وفاداری کا مطاہرہ کیا: مولانا محمود مدنی

رپورٹ کی رسم اجرا کے بعد صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں بابری مسجد فیصلے پرایک سنجیدہ اورتنقیدی مطالعہ کی سخت ضرورت تھی تاکہ آنے والی نسلیں یہ دیکھ سکیں کہ ایک طبقے نے اس فیصلے کومختلف زاویے سے دیکھتے ہوئے اپنے موقف کوعلمی اورآئینی اندازمیں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ رپورٹ دراصل ہندستان کے سیکولرتشخص، آئینی اقداراورباہمی ہم آہنگی کے تحفظ کی ایک سنجیدہ اورمخلصانہ کوشش ہے۔ بابری مسجد مقدمے میں یہ کہیں ثابت نہیں ہوا کہ مسجد کسی مندرکومنہدم کرکے تعمیرکی گئی تھی، بلکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیراگراف 788 اوراس کے بعد کے حصوں میں واضح کیا کہ اس دعوے کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے صبر، ذمہ داری اورآئینی وفاداری کا مظاہرہ کیا، مگراس کے باوجود گیان واپی، متھرا عیدگاہ، کمال مولی مسجد اوردیگرمذہبی مقامات سے متعلق نئے تنازعات کھڑے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، عدالتی ساکھ اورانصاف کے بنیادی اصولوں کا معاملہ ہے، اس لیے حکومت کواقلیتوں کے حقوق غصب کرنے والی طاقتوں کا سہارا بننے سے بازآنا چاہئے۔ اس سے قبل ساملہ کے سکریٹری جنرل ایڈوکیٹ فیروزغازی نے کلمات استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کوعزت دیتی ہے جوانصاف، دیانت اورانسانی وقارکے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہرکی کہ آئینی اخلاقیات اورستیہ میوجیتے کا اصول آخرکارغالب آئے گا۔

بے خوفی اورانصاف جج کی اصل طاقت: جسٹس اقبال انصاری

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس اقبال احمد انصاری نے بابری مسجد سے متعلق رپورٹ جاری کرنے پرمولانا محمود اسعد مدنی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج کی اصل طاقت اس کا ضمیر، بے خوفی اورانصاف پسندی ہوتی ہے، کیو ںکہ اگرجج خوف کا شکارہوجائے توانصاف متاثرہوتا ہے۔ ان کے مطابق بابری مسجد کے مقدمے میں عدالت کا فیصلہ (decision) تھا ، ججمنٹ نہیں ۔ کیوں کہ ججمنٹ کے لیے معقول دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ فیصلے کے لیے کسی معقول دلیل کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

سینئرایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ نے اپنے خطاب میں اس بات پرزوردیا کہ بابری مسجد فیصلے اورعبادت گاہ ایکٹ سے متعلق مقدمات صرف کسی ایک مذہبی مقام یا تنازع کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے آئینی مستقبل کا سوال ہے، جس کا تعلق ہندو اورمسلمان دونوں سے یکساں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولراورجمہوری ملک میں جج کا اصل فرض آئین، قانون اورمساوات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر۔

مذہبی مقامات کی دستاویزات اورتاریخی ریکارڈ کو محفوظ کیا جائے: پروفیسرفیضان مصطفیٰ

چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرفیضان مصطفی ٰ نے کہا کہ پلیسزآف ورشپ ایکٹ 1991 ملک میں مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کوبرقراررکھنے کی ایک آئینی کوشش ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ کوئی قانون بذاتِ خود مکمل ضمانت نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مذہبی مقامات کی دستاویزات، تاریخی ریکارڈ اورقانونی حیثیت مضبوط اندازمیں محفوظ کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ میں کئی تاریخی اور قانونی پہلوایسے تھے، جنہیں عدالت نے تسلیم بھی کیا، جبکہ بعض مشاہدات پرعلمی اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مستقبل میں حساس مذہبی تنازعات کے حل کے لیے محض عدالتی محاذ آرائی کے بجائے سنجیدہ مکالمہ، مصالحت اورزمینی حقائق کوبھی پیشِ نظررکھا جائے تاکہ ملک میں باہمی اعتماد، امن اورانصاف کی فضا برقراررہ سکے۔

اے ایس آئی رپورٹ میں بھی مندرتوڑکرمسجد بنانے کا ثبوت نہیں: سلمان خورشید

سینئرقانون داں سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ بابری مسجد فیصلے کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے قانونی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ اے ایس آئی کی رپورٹوں میں کہیں یہ واضح طور پرثابت نہیں کیا گیا کہ کسی مندرکو گرا کرمسجد تعمیرکی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پائیدارحل محض قانونی یا سیاسی راستوں سے نہیں بلکہ باہمی گفتگو، تعمیری مکالمے اوراعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہوگا۔

ملک کے سیکولراورآئینی ڈھانچے کوتباہ کرنے کی کوشش: ایم آرشمشاد

سینئرایڈوکیٹ ایم آرشمشاد نے خبردارکیا کہ عبادت گاہ ایکٹ کوکمزورکرنے یا اے ایس آئی قانون کے ذریعہ نئے تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں ملک کے سیکولراورآئینی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئینی حقوق صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اورعدالتی نظام کی خامیوں پرمسلسل توجہ دی جائے تاکہ ناانصافیوں کا تدارک ہوسکے۔

مسلمان اپنی مساجد اورمذہبی شعائرکے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں: ایڈوکیٹ نظام پاشا

سینئر ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہا کہ بابری مسجد کے معاملے میں میری رائے واضح ہے کہ مسجدیں صرف اینٹ اورپتھرکی عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ امت کی دینی وتاریخی شناخت کی علامت ہیں، اس لیے مسلمانوں پرلازم ہے کہ وہ اپنی مساجد اورمذہبی شعائرکے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔ بابری مسجد مقدمے کوبعض لوگ عقیدے بمقابلہ عقیدے کا مسئلہ قراردیتے ہیں۔ حالاںکہ حقیقت میں یہ مقام بمقابلہ مقام کا مقدمہ تھا۔ عدالت نے ہندوفریق کے عقیدے کواس مخصوص مقام سے وابستہ مان کرقانونی اہمیت دی جبکہ مسلمانوں کے موقف کومحض عبادت کی جگہ سمجھا گیا۔ اسی بنیاد پرمسجد کی لازمی حیثیت کی بحث سامنے آئی۔ حالاںکہ مسلمانوں کی جانب سے وقف اورتاریخی ملکیت کے دلائل مکمل طورپرپیش کیے گئے تھے، لیکن عدالت نے ان پرتفصیلی غورنہیں کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں کو اعجازمقبول نے سراہا

سینئرایڈوکیٹ اعجازمقبول نے کہا کہ تاریخ میں اگرکوئی غلطی ہوئی ہے تواسے دیانت داری کے ساتھ یاد رکھنا اوربیان کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنے آئینی حقوق، خصوصاً آرٹیکل 30 کے تحت مذہبی وتعلیمی آزادیوں کا تحفظ ہے۔ ریسرچ اسکالرڈاکٹر نظام الدین احمد صدیقی نے اس رپورٹ کے پس منظرپرتفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ ایڈوکیٹ رؤ ف رحیم نے موجودہ وقت میں وقف کے تحفظ کی جد وجہد انتہائی ناگزیرہے۔ ایڈوکیٹ طاہرحکیم نے ہرسطح پرعدل وانصاف کی ضرورت پرزوردیا۔ ان مذکورہ بالا شخصیات کے علاوہ آج کے پروگرام میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، سکریٹری جمعیۃعلماء ہند مولانا نیازاحمد فاروقی، ایڈوکیٹ روبینہ جاوید، ساملہ کے سابق صدر ایڈوکیٹ جے ایچ جعفری، ایڈوکیٹ فضیل ایوبی، ایڈوکیٹ رخسانہ چودھری، ایڈوکیٹ اے سراج الدین، پروفیسرحسینہ حاشیہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی دہلی، پروفیسرمجیب الرحمن، ایڈوکیٹ طیب خان، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ سمیت ملک کے ممتازوکلاء شریک ہوئے۔ کلمات تشکرایڈوکیٹ منصورعلی خاں نے پیش کی۔ اجلاس کی نظامت ساملہ کے صدرایڈوکیٹ ناصرعزیزنے کی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Amit Shah Pays Tribute to Lakshmanrao Inamdar: امت شاہ نےوکیل صاحب لکشمن راؤانمادار کو کیا یاد، کون تھے راؤانمادار؟

امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…

39 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026میں  بھارتی خواتین ہاکی ٹیم کی شاندار جیت، انڈونیشیا کو 17-1 سے شکست

تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…

1 hour ago

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

2 hours ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

2 hours ago