قومی

Adani Group Defamation Case Verdict: اڈانی گروپ کے خلاف ’جھوٹ‘ پھیلانے کی سزا، صحافی روی نائر کو ایک سال قید،عدالت نے مجرمانہ ہتکِ عزت کے معاملے میں جرمانہ بھی کیا عائد

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر بغیر ٹھوس شواہد کے الزامات لگانا اور کسی فرد یا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کس قدر مہنگا پڑ سکتا ہے، اس کی تازہ مثال گجرات کے گاندھی نگر کی ایک عدالت میں سامنے آئی ہے۔ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کی جانب سے دائر مجرمانہ ہتکِ عزت کے مقدمے میں مانسا مجسٹریٹ کورٹ نے منگل کے روز صحافی روی نائر کو قصوروار قرار دے دیا۔ عدالت نے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی ہے اور ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ یہ معاملہ اڈانی گروپ کی سرکردہ کمپنی اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ کمپنی کا الزام تھا کہ روی نائر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد ایسے پوسٹ کیے جن میں جھوٹے، بے بنیاد اور ہتک آمیز دعوے کیے گئے۔ کمپنی کے مطابق ان پوسٹس کا مقصد نہ صرف اڈانی گروپ کی شبیہ کو نقصان پہنچانا تھا بلکہ سرمایہ کاروں کے درمیان کمپنی کی ساکھ اور اعتماد کو بھی متاثر کرنا تھا۔

عدالت میں سماعت کے دوران دفاع کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتی ہیں اور انہیں تنقید کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹویٹس نہ تو منصفانہ تبصرے کے زمرے میں آتے ہیں اور نہ ہی انہیں جائز تنقید کہا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ پوسٹس جان بوجھ کر کسی ادارے کی شبیہ خراب کرنے کی نیت سے کی گئیں۔

تفصیلی سماعت کے بعد عدالت نے مانا کہ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے اپنا مقدمہ کامیابی کے ساتھ ثابت کیا ہے اور روی نائر کے خلاف الزامات قانونی طور پر درست پائے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آزادیٔ اظہار ایک بنیادی حق ضرور ہے، مگر یہ حق لامحدود نہیں ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی آئین کے آرٹیکل انیس کی ذیلی شق کے تحت آزادیٔ اظہار پر مناسب پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جن میں ہتکِ عزت بھی شامل ہے۔ اسی طرح آرٹیکل اکیس کے تحت وقار اور ساکھ کا حق ایک بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔

ماہرین نے اس فیصلے کو میڈیا ٹرائل کے خلاف ایک اہم پیغام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر تصدیق کے بار بار الزامات لگانا قانوناً غلط ہے اور اس سے نہ صرف افراد بلکہ اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ سپریم کورٹ بھی ماضی میں جھوٹے دعووں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ہونے والے نقصانات پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔ فی الحال روی نائر کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Strait Of Hormuz: آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرنگ سے ٹکرا کر تیل کے جہاز میں لگی آگ، ایران کا دعویٰ

ایرانی بحریہ نے تیل بردار جہاز کو ’خلاف ورزی کرنے والا‘ جہاز قرار دیا۔ بیان…

2 hours ago

Indresh Kumar Raises Questions: سونیا گاندھی کے الزامات احمقانہ اور نامناسب… راہل اور اکھلیش کو بھی عقل و سمجھ عطا ہو: اندریش کمار

اندریش کمار نے سونیا گاندھی کی کتاب پر اٹھائے سوالات، راہل گاندھی پر بھی تنقید،…

4 hours ago