کمسن لڑکی کے جنسی استحصال سے پیدا ہونے والے نومولود کو غیر قانونی طور پر اپنا بچہ ظاہر کر کے پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنوانے کے سنگین معاملے میں پولیس نے ایک جوڑے کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے نومولود کو برآمد کر کے قانونی تحفظ کے لیے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم جوڑے کو عدالت میں پیش کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
اس طرح بے نقاب ہوا جعلسازی کا کھیل (Rajnandgaon Police Action)
پولیس سپرنٹنڈنٹ انکیتا شرما نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی والدہ نے چوکی چیچولا میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ گاؤں کے ہی ایک نابالغ لڑکے نے ان کی بیٹی کے ساتھ عصمت دری کی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ بدنامی کے خوف سے اہلِ خانہ نے ابتدا میں پولیس کو اطلاع نہیں دی۔8 ستمبر 2025 کو شہر کے ’کرشنا اسپتال‘ میں لڑکی کی خفیہ طور پر ڈلیوری کرائی گئی۔ اس کے بعد نومولود بچے کو ایک ضرورت مند جوڑے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس جوڑے نے بچے کو ’کمُد موہبے میموریل اسپتال‘ میں داخل کرایا اور وہاں خود کو بچے کے والدین بتایا۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن سے جعلی پیدائش کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا گیا۔
اسپتال میں ملی بھگت
اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر وجے کو بتایا جا رہا ہے۔ وہ کمُد موہبے اسپتال کے علاوہ ایک دوسرے نجی اسپتال میں بھی کام کرتا ہے۔ اس نے پہلے قواعد کے خلاف کمسن لڑکی کی ڈلیوری کرائی اور پھر نومولود کو اسپتال میں داخل کروایا۔ اس دوران جوڑے نے بچے کو علاج کے بہانے کمُد موہبے میموریل اسپتال میں اپنا بچہ بتا دیا۔ ڈاکٹر وجے اور اسپتال کے عملے کی ملی بھگت سے میونسپل کارپوریشن کو غلط معلومات فراہم کی گئیں، جن کی بنیاد پر نومولود کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا۔ معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد سے ڈاکٹر وجے فرار ہے، جس کی تلاش میں پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…