قومی

SC makes a sharp remark on Dog Lovers: کتے کے کاٹنے پر معاوضہ دینا ہوگا، ڈاگ لَوَرز کی ذمہ داری بھی ہوگی طے،  سپریم کورٹ کا سخت موقف

نئی دہلی: کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی موت یا زخم کی صورت میں معاوضہ دیا جائے گا، اور اس کے ساتھ ہی ڈاگ لَوَرز کی ذمہ داری بھی طے کی جائے گی۔ منگل کے روز آوارہ کتوں سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ اہم ریمارکس دیے۔ عدالت نے کہا کہ وہ کتوں کے کاٹنے سے موت یا زخمی ہونے کے معاملات میں ریاستی حکومتوں پر معاوضہ مقرر کرے گی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کو کھلے عام کھانا کھلانے والوں کے رویے پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ کیا ان کے جذبات صرف کتوں کے لیے ہیں، انسانوں کے لیے نہیں؟ عدالت نے پوچھا کہ اگر کسی آوارہ کتے کے حملے میں نو سالہ بچے کی موت ہو جائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہونی چاہیے؟

آوارہ کتوں میں پائے جانے والے وائرس کا ذکر

سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں میں پائے جانے والے وائرس کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’جب شیر آوارہ کتوں پر حملہ کر کے انہیں کھاتے ہیں تو انہیں ڈسٹیمپر کی بیماری ہو جاتی ہے اور بالآخر وہ مر جاتے ہیں۔‘‘

ایکو سسٹم میں توازن برقرار رکھنا بہت ضروری

سینئر ایڈووکیٹ وکاس سنگھ نے دلیل دی کہ اس معاملے کو کتا بمقابلہ انسان کے طور پر نہیں بلکہ جانور بمقابلہ انسان کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سانپ کے کاٹنے سے تقریباً 50 ہزار افراد کی موت ہوئی تھی۔ بندروں کے کاٹنے کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ چوہوں پر قابو پانے کے لیے بھی کتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ایکو سسٹم میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

آوارہ کتوں کی نس بندی ہی مسلئے کا مؤثر حل

مینکا گرو سوامی نے دلیل دی کہ آوارہ کتوں کو مارنے سے ان کی آبادی کم نہیں ہوگی، اور نس بندی ہی واحد مؤثر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریگولیٹرز نے اپنا کام صحیح طریقے سے کیا ہوتا تو آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت کی کارروائی کے بجائے ایک عوامی پلیٹ فارم بن گیا ہے۔

کتوں کو کھانا کھلانے والوں کی ذمہ داری طے

سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا، ’’کتے کے ہر کاٹنے اور ہر موت پر ہم ریاستوں پر ضروری انتظامات نہ کرنے کے لیے بھاری معاوضہ عائد کریں گے۔ کتوں کو کھانا کھلانے والوں کی بھی ذمہ داری طے کی جائے گی۔ آپ انہیں اپنے گھر لے جائیں اور وہیں رکھیں۔ انہیں آزادانہ گھومنے، کاٹنے اور لوگوں کا پیچھا کرنے کی اجازت کیوں دی جائے؟ کتے کے کاٹنے کا اثر زندگی بھر رہتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Ram Mandir Donation Theft Case: سپریم کورٹ نے نگرانی ختم کی، مجسٹریٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

نئی دہلی: ایودھیا کے رام مندرمیں مبینہ طورپرچڑھاوا چوری اورمالی بے ضابطگیوں کے معاملے میں…

17 minutes ago

Reliance Share Price: ریلائنس نے 45 منٹ میں کمائے 1.29 لاکھ کروڑ روپے،پہلے منافع میں رقم کی تاریخ، اب شیئر بازار میں مچائی دھوم

ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز میں زبردست تیزی کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں…

53 minutes ago

Join BJP Ahead of 2027 Assembly Polls: پنجاب میں اسمبلی انتخابات سے پہلے عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، تین ارکانِ اسمبلی بی جے پی میں شامل

امرتسر نارتھ کے رکنِ اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار…

2 hours ago

Azam Khan: اعظم خان نے ای ڈی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج، فوری سماعت کی درخواست

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا یہ مقدمہ رام پور میں ’مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ‘…

3 hours ago