مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں 15 جنوری کو ووٹنگ ہونی ہے اور آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے۔ صرف بی ایم سی (برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن) میں ہی 227 وارڈوں پر تقریباً 1,700 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ انتخابی نتائج 16 جنوری کو اعلان کیے جائیں گے۔ بی ایم سی کے موجودہ کارپوریٹروں کی مدت مارچ 2022 میں ختم ہو چکی تھی، جس کے بعد سے کارپوریشن کا انتظام افسران کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ دراصل یہ انتخابات فروری 2022 میں ہونے تھے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر مسلسل ٹلتے رہے۔
کن میونسپل کارپوریشنوں میں انتخابات؟
ممبئی کے علاوہ الہاس نگر، تھانے، نوی ممبئی، میرا-بھایندر، پنویل، کلیان-ڈومبیولی، بھونڈی-نظام پور، سانگلی-میرج-کوپواڑ، وسئی-ویرار، ناسک، مالیگاؤں، اہلیانگر، جلگاؤں، کولہاپور، دھولے، پونے، پمپری-چنچواڑ، سولہاپور، اِچلکرنجی، چھترپتی سمبھاجی نگر، ناندیڑ-واگھالا، پربھنی، جالنہ، لاتور، امراوتی، اکولا، ناگپور اور چندرپور میں بھی انتخابات ہو رہے ہیں۔
شندے بمقابلہ ادھو
انتخابی مہم کے آخری دن سے ایک دن پہلے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم سی میں 25 سال کے اقتدار کے دوران ٹھاکرے نے مراٹھی عوام کے لیے کیا کیا؟ قابل ذکر ہے کہ 1997 سے 2022 تک بی ایم سی پر شیو سینا کا کنٹرول رہا۔ اس بار ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے 20 سال بعد ایک ساتھ آئے ہیں اور مراٹھی اسمتا کو بنیادی مسئلہ بنایا ہے۔ راج ٹھاکرے نے 2006 میں شیو سینا سے الگ ہو کر مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کی بنیاد رکھی تھی۔
کون کس کے ساتھ؟
بی ایم سی انتخابات میں مہا وکاس آگھاڑی (ایم وی اے) اور مہایوتی اپنی مکمل شکل میں نہیں ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا (یو بی ٹی) اور راج ٹھاکرے کی منسے مل کر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ بی جے پی اور شندے گروپ بھی اتحاد میں ہیں۔ کانگریس نے بہوجن ونچت آگھاڑی (وی بی اے) کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جس میں بائیں بازو کی جماعتیں اور راشٹریہ سماج پارٹی بھی شامل ہیں۔ این سی پی (NCP) کے دونوں دھڑے—شرد پوار اور اجیت پوار—اکیلے میدان میں ہیں۔
سیٹوں کا حساب کتاب
بی جے پی نے بی ایم سی انتخابات میں 137 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جبکہ شندے گروپ 90 نشستوں پر میدان میں ہے۔ دوسری جانب ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا تقریباً 150 نشستوں پر اور راج ٹھاکرے کی منسے 70 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ بی ایم سی کی 32 نشستوں پر براہِ راست بی جے پی–شندے اتحاد اور ادھو–منسے اتحاد کے درمیان مقابلہ ہے۔ کانگریس نے ممبئی میں 143 امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ بہوجن ونچت آگھاڑی (وی بی اے) 46 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں اور دیگر اتحادیوں کو 6 نشستیں دی گئی ہیں۔ اس طرح کانگریس اتحاد مجموعی طور پر 195 نشستوں پر میدان میں اترا ہے۔ ان 32 نشستوں پر تیسرا محاذ موجود نہ ہونے کی وجہ سے ووٹوں کی تقسیم نہیں ہوگی اور مقابلہ سیدھا رہے گا۔
بی ایم سی انتخابات کیوں اہم ہیں؟
بی ایم سی انتخابات صرف ایک میونسپل کارپوریشن تک محدود نہیں، بلکہ ممبئی کی طاقت پر قبضے کی لڑائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی، ادھو ٹھاکرے، شندے گروپ، کانگریس اور این سی پی سبھی اسے وقار کا مسئلہ مان رہے ہیں۔ بی ایم سی کا سالانہ بجٹ 74,000 کروڑ روپے ہے، جو ایشیا کی کسی بھی میونسپل کارپوریشن سے بڑا ہے۔ یہ بجٹ ناگالینڈ، اروناچل پردیش، گوا، منی پور، میزورم، میگھالیہ، سکم اور تریپورہ جیسے کئی ریاستوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے بی ایم سی انتخابات کو مہاراشٹر کی سیاست میں سب سے زیادہ اہم مانا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…